انتظامی ناکامی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات،نیا کیس سامنے ا گیا
ملتان زکریا یونیورسٹی کا شعبہ سائیکالوجی میں گذشتہ روز دوسرے سمسٹر کے طالب علم کی جانب سے مبینہ طور پر ایچ او ڈی سیمت دیگر پروفیسرز کی جانب سے زد کوب کرنے پر شیشہ کا گلاس سر میں مار کر اپنا سر پھاڑ دیا جس پر خون زیادہ بہہ جانے پر طالب علم کو نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے جانا پڑا،ایشیا اردو زرائع کے مطابق طالب علم اور طلبہ میں دوستی چل رہی تھی جس پر کچھ عرصہ بعد لڑکی کی جانب سے انکار پر لڑکی نے اپنی ایچ او ڈی کو لڑکے کے خلاف درخواست دی جس کی انکوائری لڑکے کے خلاف چل رہی تھی اور لڑکے کا فون پروفیسر کے پاس موجود تھا،لڑکے کو کمرے میں لے جا کر ذرائع کے مطابق کئے گھنٹے بند رکھا اور پھر کاروائی کے لیے زد کوب کیا،لڑکے سے اس کے فون کا کا پاسورڈ/لاک کھلوایا تو لڑکی کی چیٹ اور کچھ مینہ طور پر وڈیوز برآمد ہوئی جس پر لڑکے نے غصہ میں ا کر ساتھ پڑے شیشے کے گلاس کو غصہ میں سر پر مارا اور اپنا سر پھاڑ دیا،معاملہ کو دبانے کے لیے کوشش کی گئیں مگر خون زیادہ بہہ جانے پر نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے جایا گیا،جہاں پولیس کیس نا بنوانے کے لیے لڑکے پر زور ڈالا گیا،اور موبائل فون واپس کرنے کے ساتھ تسلی دی گئی،ذرائع کے مطابق معاملہ سنگین ہونے پر یونیورسٹی کے ار او سمیت دو پروفیسرز کو بھی ان بورڈ کیا گیا تاکہ شعبہ سے بات باہر نا جائے اور پولیس کیس نا بنے،ایشیا اردو نے واقعہ کی تصدیق کے لیے ایچ او ڈی ڈاکٹر ارم سے رابطہ کیا تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق کی،سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ میں معمولات اتنے خراب ہیں کہ اسی طرح کا واقعہ گذشتہ ہفتے بھی رونما ہونے ہوئے پروفیسرز نے معاملہ رفع دفع کروایا تھا، لڑکے کے موبائل سے چیٹ اور وڈیوز برآمد پر کے کیس میں مزید تحقیقات کی جارہی ہیں جس پر جلد کاروائی عمل میں لائی جائے گئی،ایشیاء اردو کے پاس لڑکے کانام،لڑکی اور پروفیسرز کے نام اور مکمل ثبوت موجود ہیں جن کو وہ شائع وقت آنے پر کرے گا،



Leave A Comment