نیویارک: Artificial Intelligence (اے آئی) ٹیکنالوجی سے چلنے والے روبوٹ، سمارٹ گڑیا اور انٹرنیٹ سے منسلک تعلیمی کھلونے بظاہر بچوں کی تعلیم اور تفریح میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں اور والدین کو ان کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ایسے اے آئی کھلونوں کے کئی ممکنہ فوائد بھی ہیں جن میں بچوں کے سیکھنے کے عمل میں مدد، انٹرایکٹو کھیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ بعض کھلونے بچوں کو زبان سیکھنے، ریاضی کے مسائل حل کرنے اور کہانیاں سننے یا بنانے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ سوال و جواب کے ذریعے کھیل کے دوران تعلیمی تجربہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب ان کھلونوں سے جڑے کئی خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔ بیشتر اے آئی کھلونوں میں مائیکروفون، کیمرہ یا انٹرنیٹ کنیکشن موجود ہوتا ہے جو بچوں کی آواز، گفتگو اور رویے سے متعلق ڈیٹا جمع کر سکتا ہے۔ اگر یہ معلومات مناسب طریقے سے محفوظ نہ ہوں تو ہیکنگ یا غلط استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق تقریباً 27 فیصد اے آئی کھلونوں کے جوابات بچوں کے لیے نامناسب بھی پائے گئے جن میں خطرناک یا غیر مناسب موضوعات شامل تھے۔ اس کے علاوہ کچھ کھلونوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ بچے ان سے جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگتے ہیں، جس سے حقیقی سماجی مہارتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ماضی میں بعض واقعات میں اے آئی کھلونوں کی چیٹ یا ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے بچوں کی ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو ایسے کھلونے استعمال کرنے کی اجازت دیتے وقت نگرانی رکھیں، پرائیویسی سیٹنگز چیک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے ٹیکنالوجی کے ساتھ متوازن انداز میں کھیلیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار