آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھا
واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس II مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اُس حصے کا مشاہدہ کیا ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا، اور اسے ایک حیرت انگیز تجربہ قرار دیا ہے۔
مشن کے چار رکنی عملے میں ناسا کے خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ کینیڈا کے خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ یہ مشن 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی مشن ہے اور 10 دن پر مشتمل ہے، جس میں عملے نے اب سفر کے نصف سے زیادہ مرحلے طے کر لیے ہیں۔
خلا بازوں نے بتایا کہ چاند کے سیاہ حصے زمین سے دکھائی دینے والے رخ سے بالکل مختلف تھے، اور زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ کرسٹینا کوچ نے کہا کہ یہ حصہ وہ ہے جسے انسانوں نے براہِ راست کبھی نہیں دیکھا۔
مشن کے دوران چند تکنیکی مسائل کا سامنا بھی ہوا، جن میں ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ کی خرابی شامل تھی، تاہم مجموعی طور پر یہ سفر کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کے دوران لی جانے والی تصاویر اور مشاہدات چاند کی ساخت اور نظام شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا باز جلد چاند کے قریب ترین مقام سے گزریں گے اور پھر زمین کی جانب واپسی کریں گے۔
_2026_04_05_15_53_12_51854513.jpg)

_2026_10_26_15_14_45_48540551.jpg)
Leave A Comment