بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم
اسلام آباد: بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے چناب میں پانی کی آمد میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے بعد سندھ طاس معاہدے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور ماہرین نے زرعی شعبے، آبپاشی نظام اور آبی ذخائر پر ممکنہ منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔
واپڈا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 71 ہزار 900 کیوسک سے کم ہو کر 50 ہزار 300 کیوسک رہ گئی، یعنی مختصر مدت میں 21 ہزار 600 کیوسک پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر پانی کی آمد میں یہ کمی برقرار رہی تو پنجاب کے نہری نظام، خریف کی فصلوں خصوصاً چاول، گنا، کپاس اور چارے کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ منگلا اور تربیلا سمیت بڑے آبی ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات زرعی معیشت اور بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر بنیادی حق پاکستان کو حاصل ہے، جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں پر محدود نوعیت کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت ہے، تاہم معاہدے کے مطابق وہ قدرتی بہاؤ میں ایسی تبدیلی نہیں کر سکتا جس سے پاکستان کے حصے کے پانی پر منفی اثر پڑے۔
پاکستان ماضی میں بھی بھارت کے بگلیہار، کشن گنگا (نیلم۔جہلم) اور رتلے پن بجلی منصوبوں پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے اور مختلف مواقع پر یہ معاملہ بین الاقوامی فورمز پر بھی لے جا چکا ہے۔
آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو دریاؤں کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کے ساتھ ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا تاکہ ملک کے آبی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



Leave A Comment