فیصل آباد میں ملتان کے شہزاد اٹھنگل کو سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ) نے ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا۔ سی سی ڈی کے مطابق یہ واقعہ ایک "اینکاؤنٹر" کے دوران پیش آیا، جس میں اہلکاروں نے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران مہلک طاقت استعمال کی۔
سرکاری موقف کے مطابق، شہزاد اٹھنگل اور ان کے تین ساتھی فیصل آباد میں آئس اور کوکین کی سپلائی میں ملوث تھے۔ سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ وہ آپریشن کے دوران فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور فائرنگ کی، جس کے جواب میں اہلکاروں نے اپنی حفاظت اور گرفتاری کے لیے طاقت استعمال کی۔ سی سی ڈی کے مطابق، شہزاد کے خلاف 2022 میں ڈی جی خان میں 9C کے تحت ایف آئی آر درج تھی۔
دوسری جانب، شہزاد اٹھنگل کے خاندان اور بعض سیاسی حلقے اس واقعے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر شہزاد ایک زمین دار اور کاروباری شخصیت تھے، جن کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ، رجسٹرڈ مقدمہ یا مطلوبہ فہرست میں نام نہیں تھا۔ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ گرفتاری کے بجائے مہلک طاقت کیوں استعمال کی گئی اور کس شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا۔
سیّد علی موسیٰ گیلانی، ایم این اے نے اس معاملے پر کہا کہ "ایک نوجوان خاندان نے اپنے شوہر اور والد کو کھو دیا ہے۔ یہ وضاحت طلب ہے کہ کس اختیار اور شواہد کے تحت یہ اقدام کیا گیا۔ کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری شہریوں کی جان کا تحفظ ہے، نہ کہ بغیر عدالتی عمل کے ان کی جان لینا۔"
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے واقعات میں شفافیت، عدالتی کارروائی، اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ:
آپریشن اور شواہد کی تفصیلات عوام کے لیے دستیاب ہوں،
اگر کسی حد تک غلط بیانی یا غیر ضروری طاقت استعمال ہوئی ہے، تو جوابدہی یقینی بنائی جائے،
مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے ضابطہ کار اور تربیت بہتر کی جائے۔
زندگی کے نقصان اور اہل خانہ کی تکلیف کے باوجود، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خطرناک حالات بھی قابل غور ہیں۔ یہ واقعہ قانون، انسانی حقوق، اور شفافیت کے درمیان توازن کے اہم سوالات اٹھاتا ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار