ہیوسٹن: ناسا کی جیمس ویب خلائی دوربین اور چاندرا ایکس رے آبزرویٹری کے تازہ مشاہدات نے سائنسدانوں کو چونکا دیا ہے اور کائنات کی ابتدا سے متعلق نظریات کو ازسرِنو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق شواہد بتاتے ہیں کہ عظیم دھماکے (بگ بینگ) کے بعد کہکشائیں اور بڑی ساختیں توقع سے کہیں پہلے وجود میں آ گئی تھیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ ابتدائی کائنات میں ایک ابھرتا ہوا کہکشانی جھرمٹ موجود تھا جس میں کم از کم 66 ممکنہ کہکشائیں شامل تھیں، جن کی مجموعی کمیت تقریباً 20 کھرب سورجوں کے برابر تھی۔ یہ جھرمٹ عظیم دھماکے کے تقریباً ایک ارب سال بعد وجود میں آیا، جبکہ کائنات کی عمر اس وقت صرف 7 فیصد تھی۔

ہارورڈ اور سمتھ سونین سینٹر برائے فلکی طبیعیات کے ماہر آکوش بوگدان کے مطابق یہ کہکشانی عنقود انتہائی گرم گیس کے ہالے میں موجود ہے، جس کا درجہ حرارت لاکھوں ڈگری تک ہے اور یہ پورا نظام تاریک مادّے کے ذریعے بندھا ہوا ہے۔ تاریک مادّہ کائنات کے کل مادّے کا تقریباً 85 فیصد حصہ ہے اور اس کی موجودگی کششِ ثقل کے اثرات سے معلوم ہوتی ہے۔

یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے غیر متوقع ثابت ہوئی کیونکہ ابتدائی کائنات میں اس قدر پختگی اور بڑے کہکشانی جھرمٹ کا وجود پہلے نہیں سوچا گیا تھا۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار