اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے متعدد افسران پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں سرگرم غیر قانونی کال سینٹرز سے بھاری رشوت وصول کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں کم از کم 15 غیر قانونی کال سینٹرز کام کر رہے تھے، جن سے مبینہ طور پر ماہانہ ڈیڑھ کروڑ روپے تک بھتہ وصول کیا جاتا رہا۔ یہ کال سینٹرز غیر ملکی شہریوں کی سرپرستی میں چلائے جا رہے تھے اور آن لائن فراڈ، مالی دھوکا دہی اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

تحقیقات کے مطابق این سی سی آئی اے کے بعض افسران چھاپوں کے بعد ان کال سینٹرز کے منتظمین سے “ڈیلز” طے کرتے اور بھاری رقوم کے عوض کیسز دبا دیتے تھے۔ مقدمے میں ان افسران پر مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد رشوت وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

نامزد افسران اور شریکِ مقدمہ افراد

ایف آئی آر میں ایڈیشنل ڈائریکٹرز شہزاد حیدر اور عامر نذیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز حیدر عباس، سلمان اعوان، ندیم احمد خان سمیت متعدد اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ دیگر ملزمان میں سب انسپکٹرز عثمان بشارت، محمد بلال، صارم علی، ظہیر عباس نیازی، میاں عرفان اور ایک خاتون کے ذریعے مالی لین دین میں ملوث افراد شامل ہیں۔

مزید برآں ایک نجی کمپنی کے مالک حسن امیر اور ایک چینی شہری کو بھی مقدمے میں شریکِ جرم بنایا گیا ہے۔

چینی شہریوں کی رہائی کے بدلے مبینہ رشوت

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں ایک کارروائی کے دوران 14 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر این سی سی آئی اے کے افسران نے ان کی رہائی کے بدلے بھاری رقم وصول کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک چینی شہری کیلون کی پاکستانی اہلیہ عریبہ رباب نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے 80 لاکھ روپے ادا کیے، جب کہ باقی 13 چینی شہریوں کے بدلے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔

قانونی دفعات اور شواہد

ایف آئی اے نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109، 161، 386، 420 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی شق 5(2) کے تحت درج کیا ہے۔
تحقیقات کے دوران افسران کے درمیان ہونے والی ڈیجیٹل چیٹس، ویڈیو ریکارڈنگز اور مالی لین دین کے شواہد بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

مزید تفتیش کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد صفیر احمد، انسپکٹر محمد وحید خان، اور سب انسپکٹر شمس گوندل پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

انتظامی تبدیلیاں

اس سنگین معاملے کے بعد وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل وقارالدین سید کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، جب کہ سید خرم علی (گریڈ 21 کے پولیس افسر) کو نیا ڈی جی تعینات کیا گیا ہے۔

پس منظر

یہ وہی ایجنسی ہے جس نے حال ہی میں یوٹیوبر سعدالرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کو گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ان کی اہلیہ عروب جتوئی نے اسی ایجنسی کے افسران پر بھاری رشوت کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد ایف آئی اے نے اندرونی تحقیقات شروع کیں اور کئی افسران کو حراست میں لیا گیا۔

ایف آئی اے کا مؤقف

ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق:

> “ادارے کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جا رہی ہے، اور تحقیقات مکمل طور پر شفاف ہوں گی۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار