فرانس کے ایوانِ زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اس قانون کا مقصد بچوں کو ڈیجیٹل اسکرینز کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

صدر ایمانویل میکرون کی زیرِ قیادت اس اقدام کو بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس قانون کو ستمبر 2026 تک نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد طبی تحقیقات اور رپورٹس سے ثابت ہو چکا ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینز تک غیر محدود رسائی بچوں کو نازیبا مواد، سائبر ہراسانی، ذہنی دباؤ اور نیند کے نظام میں بگاڑ جیسے سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

حکومت کے مطابق نئی قانون سازی کے ذریعے بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا حال ہی میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کر کے دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے، جس کے بعد فرانس بھی نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت قانونی اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار