گھوٹکی: ایم پی اے جام مہتاب ڈہر کی گاڑی پر فائرنگ، گارڈ اور ڈرائیورجاں بحق
گھوٹکی پیپلز پارٹی ایم پی اے جام مہتاب ڈہر اور سابق ایم پی اے شہریار خان شر میں سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل گئے، جام مہتاب ڈہر پر نامعلوم مسلح افراد کا قاتلانہ حملہ، فائرنگ سے دو محافظ جاں بحق دو زخمی ہوگئے، جام مہتاب ڈہر معجزانہ طرح سے بچ گئے، جام مہتاب ڈہر نے شہریار شر پر قاتلانہ حملے کا الزام عائد کردیا، اطلاع پر ایس ایس پی گھوٹکی پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موقع واردات پہنچ گئے، جام مہتاب ڈہر پر حملے کی اطلاع پر سینکڑوں کی تعداد میں اسلحہ بردار حمایتی پہنچ گئے، علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا، ایس ایس پی گھوٹکی سے رپورٹ طلب کر لی، تفصیلات کے مطابق تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی ایم پی اے جام مہتاب حسین ڈہر سابق پیپلز پارٹی ایم پی اے شہریار خان شر میں سیاسی اختلافات دشمنی میں بدل گئے ہیں، اس سلسلے میں دو روز قبل سندھ پنجاب سرحدی علاقے ماچھکہ میں شر اور سیلرا قبائل میں دیرانہ دشمنی پر سیلرا برادری کا نوجوان عبدالوحید سیلرو فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے، مقتول کے قتل کا الزام شہریار خان شر اور اس کے بیٹے جہانگیر شر پر عائد کیا گیا، گزشتہ روز پنجاب کے علاقے ماچھکہ تھانے پر مقتول کے والد پہلوان سیلرو کی مدعیت میں سابق ایم پی اے شہریار خان شر اس کے بیٹے جہانگیر شر، شاہن شر سمیت پانچ ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، شہریار خان شر پر مقدمہ درج ہونے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے، گزشتہ روز جام مہتاب ڈہر اپنے اتحادی یوسف بھٹو کے ہمراہ کھینجو کے علاقے اپنی زمین پر گئے تھے واپس آ رہے تھے کہ شہریار شر کے گائوں کے قریب الہیار شاخ پر نامعلوم مسلح افراد نے جام مہتاب ڈہر کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں موقع پر ایک محافظ ظفر ڈہر جاں بحق ہوگئے جبکہ دیگر محافظ ڈرائیور اختر پٹھان، اسد علی شاہ اور شیر محمد پنہور زخمی ہوگئے، اطلاع پر ایس ایس پی گھوٹکی سمیع ﷲ سومرو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع واردات پر پہنچ گئے، ایم پی اے جام مہتاب ڈہر پر حملے کی اطلاع پر سینکڑوں کی تعداد میں اسلحہ بردار حمایتی پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جام مہتاب ڈہر نے ملزمان کی گرفتاری تک موقع واردات پر بھیٹنے کا اعلان کردیا، اس موقع پر ایم پی اے جام مہتاب ڈہر نے بتایا کہ سب کو پتا ہے اور صحافیوں سے بھی کچھ چھپا ہوا نہیں ہے جب کہ گھوٹکی پولیس کو بھی معلوم ہے یہ دہشت گردی شہریار خان شر کروا رہا ہے۔ اس کہنا تھا کہ ان کو یہ پتا نہیں سندھ کے بہادر بیٹے سے پالا پڑا ہے، یہاں پر سب شریف قومیں ہیں جو میرے ہمدرد ہیں اور دوست بھی ہیں، ہم اس حملے کا جواب کسی عام آدمی کو نہیں دیں گے سیدھا شہریار شر کو دیں گے۔ صبح کے وقت میں اپنے زرعی زمین پر جارہا تھا تو اس وقت شہریار شر نے مجھے دیکھا تھا واپس آکر ساری منصوبہ بندی کی ہے، میرا ایک ہمدرد بھی ان کے ساتھ تھا جس نے مجھے بتایا کہ یہ سازش کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں گھر جارہا تھا تو راستے میں 100 کے قریب افراد نے حملہ کیا ہے، ، بزدل نہیں ہوں کہ گھر چلا جاتا، ابھی بھی میں یہاں موجود ہوں دیکھتے ہیں پولیس کیا ایکشن لیتی ہے۔ دوسری طرف پولیس نے لاش اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا لیکن زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد سکھر اور رحیمیار خان کی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، ایس ایس پی گھوٹکی کی یقن دہانی کے بعد جام مہتاب ڈہر دہرنا ختم کرکے ڈہرکی کی طرف روانہ ہوکر سول اسپتال پہنچے، دوسری طرف شہریار خان شر نے جام مہتاب ڈہر پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جام مہتاب ڈہر بغض شہریار میں مبتلا ہیں جب مجھ پر حملہ کیا تو میں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن مجھے معلوم تھا کہ مجھ پر حملے کہ کہاں پر پلاننگ کی گئی، مہتاب ڈہر صرف چیلا ہے گرو کوئی اور ہے میں امن پسند ہوں جس کی وجہ سے مجھ پر حملہ کیا گیا گزشتہ روز مجھ اور میرے بیٹے پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا معلوم ہے کہ کس کے کہنے پر مقدمہ درج کیا ہے، اگر میرے خاندان اور دوستوں کے خلاف کاروائی کی گئی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے میرے موبائل کی فرانزک کرائی جائے موبائل دینے کو تیار ہوں، دوسری طرف آخری اطلاع تک مقدمہ درج نہ ہوسکا



Leave A Comment