اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت آج سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے، اب بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے باہمی بنیادوں پر بجلی کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا ہے۔ آئندہ پانچ سال کے دوران 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق کاروباری ادارے اور صنعتیں مسابقتی بنیادوں پر پاور پلانٹس سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت ایک نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین تک پہنچاتی ہے، تاہم بجلی کی خریداری کی شرائط کے حوالے سے عوام کی جانب سے ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آئی پی پیز کا نام بھی اب مختلف بحثوں کی وجہ سے متنازع ہوچکا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ نئے نظام کے تحت کسی کو حکومت کو بجلی فروخت کرنے کا حق نہیں ہوگا اور نہ ہی حکومت بجلی خریدے گی، بلکہ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے براہِ راست ایک دوسرے سے بجلی خرید و فروخت کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی کی خرید و فروخت کا نیا نظام شفافیت کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا اور ابتدائی طور پر اس کا اطلاق صنعتی اور بڑے صارفین پر ہوگا۔ پہلے مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

وزیر توانائی کے مطابق آنے والے برسوں میں ملک میں بجلی کی باقاعدہ منڈی تشکیل پائے گی، جس کے تحت عام صارف کو بھی اپنی ضرورت اور انتخاب کے مطابق بجلی خریدنے کا اختیار حاصل ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت حکومت بجلی خرید کر اپنے مقرر کردہ نرخوں پر صارفین کو فروخت کرنے کے موجودہ طریقہ کار سے بتدریج باہر ہوگی۔

اویس لغاری نے کہا کہ سستی بجلی کی دستیابی سے صنعتوں کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور پاکستانی صنعتیں عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات زیادہ مؤثر انداز میں برآمد کرسکیں گی۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار