امریکہ کو افزودہ یورینیم دینا ناممکن، ایران کا دوٹوک مؤقف
ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو امریکہ کے حوالے نہیں کرے گا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کے مطابق یہ بات ممکن نہیں اور ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ مذاکرات میں بنیادی توجہ مستقل جنگ بندی پر ہے جبکہ اس مرحلے پر جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کا ایک وفد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں ہے اور مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات بہت گہرے ہیں اور سفارت کاری میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات میں پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی خودمختار ملک پر حملے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیا گیا حملہ کھلی جارحیت تھا اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے اور ایسے اقدامات پر خاموش نہ رہے۔
_2026_05_23_09_27_43_49939481.jpg)


Leave A Comment