غیرملکیوں سے کروڑوں کی دھوکہ دہی، کراچی پولیس کا معطل افسر ملوث نکلا
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے ڈیفنس فیز 2 ایکسٹینشن میں قائم ایک غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر چار ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس فراڈ میں کراچی پولیس کا ایک معطل افسر بھی ملوث ہے۔
حکام کے مطابق چھاپے کے دوران محمد شاہ، عزیر شہزاد، روہت کمار اور یوگیش کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ کال سینٹر کا مالک ابوبکر صدیق ہے جو سندھ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر رہ چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم ابوبکر صدیق 9 اکتوبر 2020 کو سندھ پولیس میں بھرتی ہوا تھا اور اس سے قبل بھی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث بلیک لسٹ ہو چکا تھا۔ اس کے خلاف 2024 میں اسی نوعیت کے فراڈ کیس میں گرفتاری بھی عمل میں آ چکی ہے، جس کے بعد متعلقہ حکام کو اس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان غیرملکی بینک کے نمائندے بن کر امریکی اور کینیڈین شہریوں کو فون کرتے اور انہیں جعلی سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر کریڈٹ کارڈز کی خفیہ معلومات حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ رقم مخصوص مرچنٹ اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جاتی تھی۔
چھاپے کے دوران 14 لیپ ٹاپ، سپوفنگ سافٹ ویئر، متعدد ڈیجیٹل آلات، 10 موبائل فونز اور ہزاروں غیرملکی شہریوں کا بینکنگ ڈیٹا برآمد کیا گیا۔ ضبط شدہ سامان کو مزید تکنیکی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
_2026_03_14_14_18_24_46946198.jpg)

_2026_09_16_13_24_35_85734178.jpg)
Leave A Comment