سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر، آٹا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ
کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران ختم نہ ہو سکا، اور سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فلورملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت سے خالی ہے اور اسے نئی گندم کے ساتھ مکس کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے آٹا عوام کی دسترس سے باہر ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو گندم کی ترسیل میں تاخیر نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عبدالجنید نے مزید کہا کہ کراچی کی تھوک اور خوردہ مارکیٹوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو گندم کی ترسیل میں تاخیر کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے اور ڈی آئی جی ٹریفک کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے تاکہ فلور ملوں کو بروقت گندم فراہم کی جا سکے۔
فلور ملز چیئرمین نے بتایا کہ سرکاری گندم کی قیمت 80 روپے فی کلو ہے جبکہ اس میں نئی گندم کی قیمت 110 روپے فی کلو ہے، جس کی وجہ سے تھوک مارکیٹ میں آٹے کی سپلائی سستی نہیں ہو سکتی۔
_2026_01_18_16_44_47_46627566.jpg)

_2026_09_14_11_58_06_21669213.jpg)
Leave A Comment