پیڈا ایکٹ کے تحت بغیر انکوائری برطرفی غیر قانونی قرار، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی بیوروکریسی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ متنازع الزامات کی صورت میں باقاعدہ انکوائری کے بغیر ملازم کو برطرف نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے پیڈا ایکٹ کے تحت ملازم کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے شفیق خوشنود کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار لاہور جنرل ہسپتال میں مستقل بنیادوں پر سکیورٹی گارڈ تعینات تھا۔ اس کے خلاف ہسپتال کے آرتھو وارڈ سے اے سی کے پائپ چوری کرنے اور طویل عرصے تک ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
محکمے نے درخواست گزار کو شوکاز نوٹس جاری کیا، تاہم باقاعدہ انکوائری کے بجائے صرف شوکاز نوٹس کی بنیاد پر اسے ملازمت سے برطرف کردیا۔ درخواست گزار کی محکمانہ اپیل مسترد ہونے کے بعد پنجاب سروس ٹربیونل سے بھی ریلیف نہ ملنے پر اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے چوری اور غیر حاضری دونوں الزامات سے انکار کیا جبکہ حاضری رجسٹر سمیت دیگر ریکارڈ بھی پیش کیا گیا، اس لیے معاملہ متنازع حقائق پر مبنی تھا جسے شہادت اور گواہوں کے ذریعے جانچنے کی ضرورت تھی۔
جسٹس ملک اویس خالد نے فیصلے میں قرار دیا کہ شوکاز نوٹس میں باقاعدہ انکوائری نہ کرانے کی کوئی مضبوط، معقول اور قابلِ جواز وجہ بیان نہیں کی گئی۔ صرف یہ رائے دینا کہ انکوائری کی ضرورت نہیں، قانونی تقاضا پورا نہیں کرتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر الزامات متنازع حقائق پر مبنی ہوں اور انہیں ثابت کرنے کے لیے شہادت، گواہوں اور جرح کی ضرورت ہو تو ملازم کو باقاعدہ انکوائری کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ملازم کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے، گواہ بلانے اور مخالف گواہوں پر جرح کا مناسب موقع دینا قدرتی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
فیصلے میں پیڈا ایکٹ سے متعلق اہم قانونی نکتہ بھی واضح کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت ’’برطرفی‘‘ بطور سزا شامل نہیں، اس لیے اس قانون کے تحت ملازم کو برطرف کرنے کا حکم قانونی اختیار سے باہر ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دے دیے اور اسے ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے تاہم متعلقہ محکمہ کو اختیار دیا کہ وہ درخواست گزار کے خلاف الزامات کی قانون کے مطابق باقاعدہ انکوائری کرسکتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کی مراعات اور دیگر واجبات سے متعلق معاملہ بھی متعلقہ اتھارٹی کو قانون کے مطابق طے کرنے کی ہدایت کردی۔


_2026_10_27_13_00_34_15723905.jpg)
Leave A Comment