مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہو رہا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ و دفاع اور متعلقہ چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شریک ہوں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کی شرکت کو علاقائی امن و استحکام میں اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق انہوں نے مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی اور پاکستان، پاکستانی عوام اور امت مسلمہ کی سلامتی و خوشحالی کے لیے دعا کی، جبکہ انہوں نے جبلِ اُحد کا دورہ کرکے شہدائے اُحد کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشر گلر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام اجلاس میں شرکت کریں گے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔

اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد ملک بھر میں ریاستی اختیار اور اداروں کی عملداری بحال کرنا ہے۔

تازہ علاقائی صورتحال میں یمن کے علاوہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اہم معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے میں ریاض اجلاس میں خطے کی سلامتی، دفاعی تعاون اور مکہ معاہدے کے تحت آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار