ملتان خودکشی کیس: ابتدائی تحقیقات میں نیا موڑ، پولیس نے زیادتی کیس سے خودکشی کا تعلق ثابت ہونے کی تردید کر دی
ملتان: تھانہ بدھلہ سنت کے علاقے میں خاتون شمیم اختر کی خودکشی کے واقعے پر سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے بعد پولیس نے حقائق پر مبنی وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 50 سالہ شمیم اختر اور 35 سالہ اشفاق کے درمیان گزشتہ تقریباً 13 برس سے تعلقات قائم تھے، جن سے اہلِ علاقہ بھی آگاہ تھے۔ تحقیقات کے دوران شمیم اختر نے بیان دیا کہ اس کے سابق شوہر نے تقریباً 15 سال قبل زبانی طلاق دی تھی، جس کے بعد اس نے اشفاق کے ساتھ شرعی نکاح کر رکھا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اشفاق کی پہلی شادی تقریباً دو سال قبل ہوئی تھی، تاہم شمیم اختر سے تعلقات سامنے آنے پر پہلی اہلیہ نے طلاق لے لی۔ بعد ازاں تقریباً تین ماہ قبل اشفاق نے دوسری شادی کی، جس کے بعد شمیم اختر نے نئی اہلیہ کو ان تعلقات سے آگاہ کیا، جس پر مبینہ طور پر اشفاق کی اہلیہ، والدہ اور بہن نے شمیم اختر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران مرحومہ کی بہو بھی ان معاملات پر ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی۔
وضاحتی بیان کے مطابق خودکشی سے قبل شمیم اختر نے اشفاق کو ایک وائس نوٹ بھیجا، جس میں اس نے کہا کہ "میرے پاس آ جاؤ، ورنہ میں گولیاں کھا کر اپنی زندگی ختم کر لوں گی۔" پولیس نے بتایا کہ یہ وائس نوٹ بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے تاحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ خاتون کی خودکشی کی وجہ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنا تھی۔ دستیاب شواہد کے مطابق بظاہر واقعے کے پس منظر میں مرحومہ کے ذاتی اور گھریلو معاملات کارفرما دکھائی دیتے ہیں، تاہم خودکشی کی اصل وجوہات کے تعین کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ اور میرٹ پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے تاکہ اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ حکام کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔



Leave A Comment