جنگ کے خاتمے میں رکاوٹ: ایران کا امریکہ پر سفارتی سست روی کا الزام
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل میں تاخیر کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے میں مشکلات کا شکار ہے جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا، خاص طور پر 2018 میں جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اس کی واضح مثال ہے۔ اسماعیل بقائی کے مطابق حالیہ برسوں میں بھی امریکہ نے بات چیت کے دوران مداخلت اور جارحیت جاری رکھی۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران اس وقت صرف جنگ کے خاتمے پر توجہ دے رہا ہے اور کسی دوسرے معاملے پر بات نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال امریکی اقدامات کا نتیجہ ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ عالمی جہاز رانی کے لیے محفوظ راستہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے بات چیت جاری ہے، اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ایران کی ترجیح صرف خطے میں جنگ کا خاتمہ اور امن کا قیام ہے۔
_2026_05_05_07_52_56_73562913.jpg)


Leave A Comment