سندھ طاس معاہدہ: عالمی عدالت کے فیصلے پر پاکستان کا اطمینان، بھارت کو معلومات فراہم کرنے کا حکم
اسلام آباد: پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی واضح توثیق کرتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں پر پانی کے استعمال میں مکمل آزادی نہیں رکھتا بلکہ اس پر واضح حدود عائد ہیں۔ یہ حدود صرف کاغذی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مرحلے پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت مصنوعی طریقوں سے پانی ذخیرہ کرنے یا اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔
عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بھارت کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا۔ عدالت نے بھارت کو ہدایت دی ہے کہ کشن گنگا اور رتلے منصوبوں سے متعلق تمام اہم تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔
پاکستان نے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا۔
_2026_05_18_09_52_58_92224343.jpg)


Leave A Comment