پمز اسپتال آتشزدگی: فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف، تحقیقاتی کمیٹی قائم
اسلام آباد: پمز اسپتال کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں علی الصبح لگنے والی خوفناک آگ نے اسپتال کے حفاظتی اور فائر سیفٹی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے، واقعے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق فائر ایمرجنسی کی اطلاع صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تقریباً سات منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا اور اسے مکمل طور پر قابو کرلیا، جبکہ کولنگ اور ابتدائی جائزے کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ پمز اسپتال کی نرسری میں اس وقت لگی جب مبینہ طور پر ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹ گیا، جس کے بعد اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم واقعے کی حتمی وجہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ہنگامی صورتحال کے دوران اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص پائے گئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فائر ہوز میں کپلنگز موجود نہیں تھے جبکہ فائر پوائنٹ پر پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق ہنگامی انخلا کے راستے بھی متاثر پائے گئے اور بعض مقامات پر تالے لگے ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ واقعے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں عملے کی مبینہ کمی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے۔ ایک بچے کو لیڈی ڈاکٹر نے بچالیا جبکہ افسوسناک طور پر 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں آٹھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی آگ لگنے کی اصل وجوہات، ریسکیو کارروائی، اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی انخلا کے نظام کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور غفلت ثابت ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فائر سیفٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔



Leave A Comment