واشنگٹن: امریکی سرکاری تحقیقی ادارے اوک رج نیشنل لیبارٹری سے وابستہ ماہرین نے پلاسٹک کے فضلے کو پٹرول اور ڈیزل جیسے مائع ہائیڈروکاربن ایندھن میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایک طریقہ دریافت کیا ہے، جسے مستقبل میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تجربات میں پلاسٹک کے فضلے کو المونیم کلورائیڈ کی پگھلی ہوئی نمکیات کے ساتھ ملا کر تقریباً 200 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر گرم کیا گیا۔ اس عمل کے دوران پلاسٹک کے ایک حصے کو مائع ہائیڈروکاربن میں تبدیل کیا گیا۔

تجرباتی نتائج کے مطابق اس طریقہ کار میں تقریباً 60 فیصد مواد کو مطلوبہ مائع ایندھن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس عمل میں بنیادی طور پر پگھلی ہوئی نمکیات اور حرارتی بھٹی استعمال کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ابتدائی تجربات حوصلہ افزا امکانات ظاہر کرتے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر استعمال کرنے سے قبل متعدد عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ ان میں توانائی کی مجموعی لاگت، پلاسٹک کے مختلف اقسام کے فضلے کی چھانٹی، عمل کی کارکردگی اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پلاسٹک کا فضلہ ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ تھیلیوں، بوتلوں، پیکجنگ اور دیگر پلاسٹک مصنوعات کا بڑا حصہ مناسب طریقے سے تلف یا ری سائیکل نہ ہونے کے باعث سڑکوں، گلیوں، نالوں اور کھلے مقامات پر جمع ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پلاسٹک کے فضلے کو مائع ہائیڈروکاربن میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر معاشی اور ماحولیاتی طور پر قابلِ عمل بنایا جاسکا تو اس سے ایک جانب پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ دوسری جانب متبادل مائع ایندھن کی پیداوار کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کے حقیقی معاشی اور ماحولیاتی فوائد کا تعین صنعتی سطح کے مزید تجربات اور مکمل لائف سائیکل تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار