اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور بحالی کے کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے، جبکہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کی بھی مالی مدد یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام اور سڑکوں کی بحالی کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکرٹریز کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا خود جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور جہاں رسائی میں مشکلات کے باعث تاحال امدادی سامان نہیں پہنچ سکا وہاں اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروری سامان فوری پہنچایا جائے۔

وزیراعظم نے آئندہ بارشوں اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو امدادی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو مون سون 2026 کے اثرات اور صوبوں و این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

بریفنگ کے مطابق مزید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی ٹیمیں عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ ملک بھر میں مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 615 ٹن امدادی سامان بھیجا جاچکا ہے، جبکہ مزید امدادی سامان کی ترسیل کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم فعال ہیں، جن کی مدد سے سیلاب سے قبل متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار