پولیس ڈیٹا سسٹم میں مبینہ ٹیمپرنگ اور کرپشن کا بڑا اسکینڈل، تین اہلکار گرفتار
ملتان پولیس کے ڈیٹا سسٹم میں مبینہ رد و بدل، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی سے متعلق ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں مبینہ پولیس کے بعض ملازمین پر مجرمانہ ریکارڈ ختم کروانے کے بدلے بھاری رقوم وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایشیاء اردو ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں ڈیٹا پروسیسنگ آفیسر (DPO) عاصم ، زیشان PSA اور کاشف بلال PSA مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں ، جبکہ ایک سافٹ ویئر ماہر زوہیب اور فرنٹ ڈیسک آپریٹر تھانہ مظفر آباد اجمل کانسٹیبل کا نام بھی اس معاملے میں دوران تفتیش لیا جا رہا ہے ، بڑے اسکینڈل کی تحقیقات سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے کہ ذیشان کو مبینہ طور پر ڈیلنگ کے کام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وہ مختلف افراد سے رقم لے کر انہیں اس نیٹ ورک تک پہنچاتا تھا ، جہاں سافٹ ویئر سے متعلق مہارت رکھنے والے زوہیب کے ذریعے پولیس کے ڈیٹا سسٹم میں تبدیلی کروائی جاتی تھی۔ اس عمل کے نتیجے میں بعض افراد کا مجرمانہ ریکارڈ ختم یا تبدیل کیا جاتا تھا اور اس کے عوض متاثرہ افراد سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق عاصم مبینہ طور پر اس پورے نیٹ ورک کی نگرانی کرتا تھا اور بعض مواقع پر خود بھی ایسے افراد کو تلاش کرتا تھا جن کے خلاف مقدمات درج ہوتے تھے۔ بعد ازاں انہیں ذیشان کے حوالے کر دیا جاتا تھا ، جہاں سے معاملہ آگے بڑھایا جاتا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس پورے عمل میں نقد رقم کا استعمال زیادہ کیا جاتا تھا تاکہ کسی قسم کا تحریری یا ڈیجیٹل ثبوت موجود نہ رہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ سرگرمیاں زیادہ تر رات بارہ بجے کے بعد انجام دی جاتی تھیں تاکہ کسی کو اس کی اطلاع نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے مختلف تھانوں میں تعینات PSA ملازمین کے لاگ اِن استعمال کیے جاتے تھے کیونکہ پولیس ڈیٹا سسٹم میں ریکارڈ تک رسائی متعلقہ تھانے کے PSA کے اکاؤنٹ کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی ریکارڈ میں رد و بدل کا معاملہ سامنے آئے تو ذمہ داری متعلقہ PSA پر ڈال دی جائے۔
ذرائع کے مطابق اس گروپ کی جانب سے ایسے ملازمین کو بھی دباؤ میں رکھا جاتا تھا جو ان کی ہدایات کے مطابق کام نہیں کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کاشف بلال مبینہ طور پر دفتر کے کیمروں اور آن لائن حاضری کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے
ایسے ملازمین کی نگرانی کرتا تھا۔ اگر کوئی ملازم ان کی ہدایات پر عمل نہ کرتا تو اسے غیر حاضر لگوا کر دفتر طلب کیا جاتا اور اس پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
معاملے میں مالی بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دفتر کے نیٹ ورکنگ سسٹم، انٹرنیٹ کنکشن ، کمپیوٹرز ، پرنٹرز اور اسٹیشنری سے متعلق بلز بھی مبینہ طور پر اپنی مرضی سے تیار کروا کر منظور کروائے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق سی پی او آفس کے بعض انٹرنیٹ کنکشنز عملی طور پر ختم کیے جانے کے باوجود ان کے بل منظور کروائے جاتے رہے اور مبینہ طور پر اس رقم سے ذاتی فائدہ حاصل کیا جاتا رہا۔
مزید یہ بھی دوران تفتیش معلوم ہوا ہے کہ فرنٹ ڈیسک آپریٹر تھانہ مظفر آباد اجمل کانسٹیبل بعض کیسوں میں ملوث افراد کو اکٹھا کرتا اور ان سے رقم وصول کر کے PSA زوہیب تک پہنچاتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق وصول ہونے والی رقم کا تقریباً پچاس فیصد حصہ ذیشان کے ذریعے نقد صورت میں عاصم تک پہنچایا جاتا تھا تاکہ کسی قسم کا تحریری یا ڈیجیٹل ریکارڈ موجود نہ رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں مختلف PSA ملازمین کے لاگ اِن سے ریکارڈ ڈیلیٹ ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ بعد ازاں انہی ملازمین کو ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی۔ بعض متاثرہ ملازمین نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا۔
جاری پولیس تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق زوہیب ایک سافٹ ویئر ڈیولپر ہے اور پولیس کے سافٹ ویئر سسٹم پر مہارت رکھتا ہے۔ الزام ہے کہ اس مہارت کو استعمال کرتے ہوئے سسٹم میں رد و بدل کیا جاتا رہا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ذیشان ، زوہیب اور اجمل کانسٹیبل اس وقت سی آئی اے پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ اس معاملے میں مزید اہم انکشافات اور ممکنہ گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی ۔
پولیس حلقوں میں اس معاملے پر غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور کسی ماہر فرانزک ٹیم سے PSA سسٹم کا فرانزک کروایا جائے تاکہ محکمہ سے ایسے کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جا سکے ، ایشیا اردو کے زرائع سے موصول تمام ریکارڈ اور مواد موجود ہے جیسے بروقت شائع کیا جاے گا۔


_2026_09_16_13_24_35_85734178.jpg)
Leave A Comment