ایشیا اردو

سنیئر رپورٹر، نعمان حفیظ

غازی یونیورسٹی میں "غذا کے عالمی دن" کے حوالہ سے شعبہ فوڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ آف ایگری انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ایک پروگرام منعقد ہوا۔
غذائی اہمیت سے متعلق آگاہی کے سیمینار میں ڈاکٹر طلعت بلال یعسوب اور حسن عزیز صاحب نے موضوع کی مناسبت سے سٹوڈنٹس کی معلومات میں اضافہ کیا۔ انہوں نے انڈوں کی جدید ٹیکنالوجی پر پیداوار اور غذائی اہمیت بارے گفتگو کی۔
ڈاکٹر طاہرہ بتول قیصرانی نے اس دن کی مناسبت سے متوازن غذا کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے طلباء کو جنک فوڈ اور مارکیٹ ڈرنکس کے نقصانات کے بارے آگاہی دی، انہوں نے مزید بتایا کہ کھانے پینے میں اعتدال اور دوسروں کا خیال رکھنے سے ہم غربت میں بھی کمی لا سکتے ہیں۔ یہی اس سال کے غذایت کے عالمی دن کا مفہوم بھی ہے کہ "کسی کو بھوکا نہ رہنے دیا جائے"۔
ویسٹ فوڈ سے استفادہ کرنے کا طریقہ بھی بتایا گیا، سیب کے چھلکے سے قہوہ بنانے کی ترکیب بتائی گئی۔ اسی طرح اور بھی کافی طریق کار ہیں جن سے ہم ویسٹ فوڈ کو ضائع کرنے کے بجائے مختلف ڈشیں تیار کر سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے آگاہی کے پروگرامز طلباء و طالبات کے لیے ناگزید ہیں جن سے غذائی اہمیت کے حوالہ سے ان کے شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز کا علم ہوتا ہے اور ایسے پروگرامز مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہیئیں۔
سیمینار کے بعد سٹوڈنٹس میں پینٹنگ اور ڈش میکنگ کا مقابلہ ہوا، جن میں تھرڈ سمسٹر اور فرسٹ سمسٹر کے سٹوڈنٹس نے انڈوں کی ڈشوں کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی ڈشیں تیار کیں، تھرڈ سمسٹر کے عبداللہ جلیل اور کائنات کا گروپ آگے رہا اور فرسٹ سمسٹر سے مہ نورکا گروپ نمایاں رہا۔ صنوبر گلناز کے گروپ نے دوسری پوزیشن حاصل کی،
ڈاکٹر شہزادی مہ پارہ اور ڈاکٹر جویریہ شیرانی نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں حوصلہ افزائی کے لیے انعامات تقسیم کیئے گئے۔ پروگرام کے آخر میں منتظم اعلی ڈاکٹر طاہرہ بتول قیصرانی نے تمام مہمانان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اور ارادہ ظاہر کیا کہ طلباء و طالبات کی آگاہی کے لیے ایسے معلوماتی پروگرامز آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار