ایشیا اردو

رپورٹ احمد مری
کوہلو شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر لیویز کی چیکنگ اور چیک پوسٹوں کے باوجود ضلع میں منشیات وافر مقدار میں موجود ہے ، عوامی حلقوں کی جانب سے ڈی جی لیویز سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع کوہلو کے خارجی و داخلی راستوں پر لیویز کے درجن بھر کے قریب چیک پوسٹیں قائم ہیں ان چیک پوسٹوں کے باوجود ضلع میں منشیات فروشی جاری ہے جس کے باعث نئی نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے فورسز کی نااہلی کے باعث ضلع کوہلو منشیات کا گڑھ بن گیا عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں چرس، شراب ، ہیروئن سمیت دیگر نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والی منشیات سر عام فروخت ہورہی ہے،  جس کے باعث کالج اور سکولوں کے طلباء اور نوجوان تیزی سے نشے کی لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ متعدد افراد نشہ استعمال کرنے کے باعث اپنی قیمتی جانیں ضائع کرچکے ہیں جبکہ دوسری جانب سینکڑوں نوجوانوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر لگ گیا منشیات کے پیسے پورے نہ ہونے کے باعث متعدد نوجوان چوریوں اور ڈکیتیوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع میں جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ نشے میں مبتلا نوجوانوں کے والدین میں شدید غم و غصہ پاپا جا رہا ہے داخلی راستوں پر لیویز کی چیک پوسٹوں کے باوجود ضلع تک منشیات بآسانی سمگل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے جس کے باعث منشیات تیزی سے استعمال ہونے کے باعث علاقہ مکین، سیاسی، سماجی رہنمائوں میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے جبکہ نوجوانوں کو موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹری بلوچستان، ڈی جی لیویز ،کمشنر سبی ڈویژن سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹس لیکران سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی اور موت کا کاروبار فوری بند کروایا جائے تاکہ نوجوان نسل منشیات جیسے لعنت سے بچ سکیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار