لیہ: لیہ میں لینڈ مافیا اور ریونیو افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی سرکاری زمین کی غیر قانونی منتقلی کا ایک بڑا سکینڈل منظرعام پر آیا ہے۔ سرکل انسپکٹر سرفراز احمد گاڈی کی رپورٹ کے بعد نئے سال کا دوسرا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں سابق تحصیلدار احمد خان بزدار، سابق نائب تحصیلدار خان بیگ، ایس سی اوز رضوان اقبال، عامر فرید، قانونگو رانا عبدالستار، پٹواری غلام محی الدین اور ایڈجسٹمنٹ آفیسر غلام حسین کھکھ سمیت 7 ریونیو افسران کو مدعا بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 9 مفاد کنندگان احمد نواز، شاہد اقبال، محمد علی، محمد عارف، محمد یاسر، ارسلان، اکرام، فخر حیات، دانیال، رؤف اور عادل کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
مقدمے کے مطابق، موضع سرشتہ تھل جنڈی میں واقع اللہ ڈیوایا واندر کی کل زمین 1038 کنال 2 مرلے تھی، جس میں مختلف چکوک میں ایڈجسٹمنٹ کے بعد 49 کنال باقی رہ گئی تھی۔ احمد نواز اور شاہد اقبال سمیت دیگر مفاد کنندگان نے، لینڈ مافیا اور محکمہ مال کے افسران و ملازمین کی ملی بھگت سے زمین کے غیر قانونی انتقالات کروائے۔
نتیجتاً، سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا اور لینڈ مافیا نے زمین کو آگے فروخت کر دیا۔ محکمہ انٹی کرپشن کی رپورٹ کے مطابق، جعلی دستاویزات اور فراڈ میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں، جن کا تعین آئندہ تحقیقات میں کیا جائے گا۔
مقدمے کی تفتیش اے ایس آئی سرکل انٹی کرپشن محمد اعجاز کر رہے ہیں اور یہ اسکینڈل علاقے میں سرکاری زمین کی حفاظت اور افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار