آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً معطل، تجارتی جہازوں کی تعداد میں بڑا کمی
آئل ٹینکرز پر حالیہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
شپ ٹریکنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز صرف 5 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اتوار کو کسی تجارتی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 31 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں میں ایک خالی ویری لارج کروڈ کیریئر بھی شامل تھا، جس کا خودکار شناختی نظام بند تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک چھوٹا ٹینکر ایرانی فیول آئل لے کر آبنائے ہرمز سے باہر نکلا، تاہم حالیہ حملوں کے بعد اس اہم سمندری راستے میں مجموعی بحری سرگرمی انتہائی محدود ہوگئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ ہفتے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی سے منسلک تین جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں طویل عرصے تک بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔



Leave A Comment