Donald Trump کے دورِ حکومت میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے ساتھ ساتھ مختلف پالیسی فیصلوں نے امریکی معیشت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔

رائٹرز کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی دوسری مدت کے ابتدائی 18 ماہ کے دوران امیگریشن کریک ڈاؤن، درآمدی محصولات میں اضافہ اور ایران جنگ جیسے عوامل نے معیشت کو متاثر کیا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی میں کمی، صنعتی ملازمتوں میں اضافہ اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے اپنے وعدے مکمل طور پر پورے نہیں کر سکی۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے مہنگائی بڑھی اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درآمدی ٹیکسز اور توانائی کی قیمتوں نے صارفین پر اضافی بوجھ ڈالا، جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ملازمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ امیگریشن پابندیوں اور عمر رسیدہ آبادی کے باعث بعض شعبوں میں افرادی قوت کی کمی بھی دیکھنے میں آئی۔

مزید برآں، رہائش کا بحران بھی برقرار رہا جہاں بلند شرح سود اور مہنگے گھروں کی قیمتوں نے عام امریکی کے لیے گھر خریدنا مشکل بنا دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی معیشت مجموعی طور پر مضبوط ہے، تاہم مہنگائی، جنگی اخراجات اور پالیسی چیلنجز اب بھی اس کے لیے بڑے مسائل بنے ہوئے ہیں۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار