امریکا اور ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے آثار
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں کچھ پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار الیکس مارکیورڈ کے مطابق سابق امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، تاہم اب دوبارہ سفارتی رابطے فعال ہونے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور خلیجی ممالک کی شمولیت سے مذاکراتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنے میں مدد ملی ہے۔ خصوصاً United Arab Emirates، Qatar اور Saudi Arabia نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ United States کی جانب سے اگرچہ اب بھی سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے دیے جا رہے ہیں، لیکن پس پردہ سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ مذاکرات میں ابتدائی طور پر اقتصادی اقدامات جیسے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر توجہ دی جا سکتی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات بعد کے مراحل کے لیے چھوڑے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں کی بحالی عالمی معیشت کے لیے بڑا مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
_2026_05_21_06_40_14_80267805.jpg)


Leave A Comment