واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پرامن ایٹمی توانائی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول جوہری منصوبوں کی تعمیر، جدید ایٹمی ٹیکنالوجی، تکنیکی معاونت اور افرادی قوت کی تربیت میں تعاون فراہم کریں گی۔ اس منصوبے کا مقصد بجلی کی پیداوار میں اضافہ، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور سعودی عرب کے معاشی ترقیاتی منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاہدہ امریکی قانون کے تحت حتمی منظوری کے لیے کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور منظوری یا اعتراض سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

سعودی عرب کئی برسوں سے اپنی ویژن 2030 حکمت عملی کے تحت پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کے قیام کا خواہاں ہے تاکہ خام تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جا سکے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی ضوابط، حفاظتی اقدامات اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کو مکمل طور پر مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ جوہری تعاون صرف پرامن مقاصد تک محدود رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کی توثیق کر دیتی ہے تو یہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار