عالمی بینک نے کہا ہے کہ تجارتی کشیدگیوں اور پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود عالمی معیشت نے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات عالمی بینک کی رپورٹ "عالمگیرمعاشی امکانات" میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تجارتی اشیا کے ذخیرہ کرنے، سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد اور مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری نے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا۔

توقع سے زیادہ تیز رفتار ترقی نے 2020 کی کساد بازاری کے بعد پانچ سالہ عالمی بحالی کو مکمل کیا جو گزشتہ چھ دہائیوں میں بے مثال ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں نے مضبوط بحالی حاصل کی ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد ممالک وبا سے پہلے کی فی کس آمدنی کی سطح سے تجاوز کر چکے ہیں۔ تاہم ایک چوتھائی سے زائد ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں، خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک اور وہ ریاستیں جو بدامنی اور تنازعات کا شکار ہیں، 2019 کی فی کس آمدنی کی سطح تک واپس نہیں پہنچ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار اس سال کم ہو کر 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تجارتی کشیدگیاں بڑھنے، مالی منڈیوں میں اعتماد میں کمی اور مہنگائی میں اچانک اضافے کے باعث نمو متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں تجارتی ماحول کو بہتر بنانے، مالی وسائل تک رسائی میں رکاوٹیں کم کرنے اور ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی سفارش کی گئی ہے۔ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں سرکاری قرض 55 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار