چین کا ٹیک شہر ووہان: جہاں روبوٹس میں انسانی حرکات کو زندگی دی جا رہی ہے
چین کے شہر ووہان میں جدید ٹیکنالوجی نے ایک نئی دنیا قائم کر دی ہے جہاں روبوٹس کو انسانی حرکات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ شہر تیزی سے ٹیکنالوجی کا مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں ڈرائیور لیس ٹیکسی، سکائی ٹرین اور مختلف اقسام کے جدید روبوٹس موجود ہیں۔
ووہان کے ایک خصوصی روبوٹ سینٹر میں ایسے روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف صنعتی بلکہ گھریلو اور دفاعی کاموں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان روبوٹس کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی حرکات انسانی جسم سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے انسان کو ایک خاص لباس پہنایا جاتا ہے جسے موشن کیپچر سوٹ کہا جاتا ہے۔ اس سوٹ میں لگے سینسرز جسم کی حرکت، رفتار اور زاویوں کو ریکارڈ کرتے ہیں، جس کے بعد یہ معلومات کمپیوٹر کے ذریعے روبوٹس میں منتقل کی جاتی ہیں۔
نتیجتاً روبوٹس کی حرکات انسانوں سے حیرت انگیز حد تک ملتی جلتی ہوتی ہیں، جیسے وہ انسانی انداز میں کام کر رہے ہوں۔ کچھ روبوٹس فیکٹریوں میں بھاری کام انجام دیتے ہیں، جبکہ دیگر گھروں اور مارکیٹس میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی جہاں سہولت اور ترقی کا ذریعہ بن رہی ہے وہیں ایک اہم سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ مستقبل میں انسان کا کردار کیا ہوگا۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی کہ وہ اس نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالیں۔
_2026_05_05_15_18_42_26383222.jpg)

_2026_10_26_15_14_45_48540551.jpg)
Leave A Comment