فیصل آباد کے ڈائریکٹر آصف علی نے ہدایت کی ہے کہ اغبان امرود کے باغات کی آبپاشی جنوری کے مہینے میں ہر 20 سے 25 دن بعد کریں۔ فروری اور مارچ کے دوران آبپاشی کا دورانیہ 15 سے 20 دن ہونا چاہیے تاکہ امرود کی بروقت اور مناسب بار آوری ممکن ہو۔

آصف علی نے بتایا کہ امرود پاکستان کا چوتھا اور پنجاب کا تیسرا اہم پھل ہے۔ فیصل آباد، ساہیوال، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کے اضلاع میں امرود کی کاشت بڑے پیمانے پر کی جا رہی ہے۔ سندھ میں لاڑکانہ، دادو، شکارپور، حیدرآباد اور خیبرپختونخواہ کے ہزارہ اور مردان کے اضلاع بھی امرود کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امرود میں وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ ہے جو ترشاوہ پھلوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ قوت فراہم کرتی ہے، اور فاسفورس، کیلشیم اور آئرن کے حصول کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ امرود سے جیم، جیلی، سکوائش، جوس بلینڈ، جوس کنسنٹریٹ اور کینڈی جیسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، اور پاکستان کے کئی علاقوں میں کچے امرود کو سالن کی طرح بھی پکایا جاتا ہے۔

آصف علی نے امرود کی اہم اقسام میں لاڑکانہ صراحی، شرقپوری گولہ، کریلا، سرخا اور سلیکشن 313 کو نمایاں اہمیت دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امرود کے پودے سال میں دو بار پھل دیتے ہیں، جن میں ایک بار جنوری و فروری اور دوسری بار جولائی و اگست میں شامل ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار