مصنوعی ذہانت سے الزائمر کی پیشگی تشخیص میں 93 فیصد درستگی حاصل
میساچوسٹس: محققین نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے الزائمر کی بیماری کی پیشگوئی تقریباً 93 فیصد درستگی کے ساتھ ممکن ہے۔
امریکا کی ریاست میساچوسٹس میں قائم ورسسٹر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ نے 800 سے زائد دماغی سکینز کا تجزیہ کیا، جس سے اے آئی کو یہ صلاحیت حاصل ہوئی کہ وہ دماغ میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کو پہچان سکے، جو ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم یعنی الزائمر کے ابتدائی اشارے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، اے آئی نہ صرف الزائمر کے ابتدائی خطرات کی نشاندہی کر سکتی ہے بلکہ ایسے مریضوں کی شناخت میں بھی مددگار ہے جن میں بیماری موجود ہو مگر تشخیص نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے مریض اور ڈاکٹر قیمتی وقت حاصل کر سکتے ہیں تاکہ بیماری کے لیے بہتر تیاری کی جا سکے اور ممکنہ طور پر اس کی رفتار کو سست کیا جا سکے۔
ادارے کے اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر بینجامن نیفیو نے بیان دیا کہ الزائمر کی ابتدائی تشخیص مشکل ہے کیونکہ اس کی علامات اکثر عام بڑھاپے کی علامات کے طور پر سمجھ لی جاتی ہیں۔
_2026_03_10_16_03_45_70309799.jpg)


Leave A Comment