5 اگست 2019: کشمیری شناخت اور حقِ خودارادیت پر حملے کا سیاہ باب
اسلام آباد: یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر 5 اگست 2019 کے اقدامات کو کشمیری عوام کے لیے ایک سیاہ باب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دن بھارت نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کر دی تھی۔
جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں گزشتہ 77 سال سے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد لاپتہ ہیں جبکہ 2025 کے ابتدائی مہینوں میں بڑی تعداد میں کشمیریوں کو حراست کے دوران ہلاک کیا گیا۔
اسی طرح جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، خاص طور پر سیاحت سے وابستہ لوگ شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دی گارڈین کی رپورٹس میں اجتماعی قبروں کی موجودگی اور سیکیورٹی فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کشمیر صرف علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک اہم مسئلہ ہے، جس میں لاکھوں افراد کے حقِ خودارادیت کا سوال شامل ہے۔ سخت پابندیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان ہر سال 5 اگست کو کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے یہ دن مناتا ہے۔
_2026_08_05_09_51_15_56484819.jpg)


Leave A Comment