اسلام آباد: چینی زرعی ٹیکنالوجیز پاکستان کے زرعی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، بعد از برداشت نقصانات میں کمی اور دیہی آبادی کے لیے آمدن کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ووہان چنگفا ہیشینگ ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کمپنی کے کنٹری ڈائریکٹر ژو شو شینگ نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں بتایا کہ ابتدائی بڑی کامیابی ہائبرڈ چاول کے ذریعے حاصل ہوئی۔ پاکستان دنیا کے ساتویں بڑے چاول برآمد کنندہ سے ترقی کر کے چوتھے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور اب تیسرے نمبر کے قریب ہے۔ ہائبرڈ چاول کی بدولت فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً 50–60 من سے بڑھ کر 90–100 من تک پہنچ گئی، جبکہ بعض کاشتکار اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔

ژو کے مطابق ہائبرڈ چاول نے برآمدات کو مضبوط کیا اور بیجوں کی فراہمی، زرعی ادویات، کاشت، پراسیسنگ اور بیرون ملک فروخت جیسے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ مستقبل میں تعاون کا محور پیداوار کے ساتھ معیار کی بہتری ہوگا تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان اعلیٰ قدر والی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

چاول کے ساتھ، ہائبرڈ کینولا بھی پاکستان کی ضرورت کے مطابق پیدا کی جا رہی ہے۔ کینولا کی درآمد پر سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں، لیکن ہائبرڈ کینولا زیادہ پیداوار، بہتر تیل کی مقدار، کم کھاد اور کیمیائی ادویات کی ضرورت فراہم کرتی ہے، جس سے کسان، ماحول اور زمین کی صحت محفوظ رہتی ہے۔

ژو نے بتایا کہ منصوبے کا ایک اہم حصہ چھوٹے اور مائیکرو آئل ایکسٹریکشن یونٹس کا قیام ہے، جس سے دیہات میں ہی تیل نکال کر قریبی آبادی کو سستا اور معیاری خوردنی تیل فراہم کیا جا سکے گا۔ اس ماڈل کے تحت خاندان فصل اگا کر اس کی پراسیسنگ بھی کر سکتے ہیں، خواتین مشینیں چلا سکتی ہیں، تیل فروخت کر سکتی ہیں اور پروٹین سے بھرپور ضمنی مصنوعات مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کر کے آمدن میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

کم لاگت ہارویسٹنگ مشینری کی بدولت کینولا کے بعد از کٹائی نقصانات 30–40 فیصد سے کم ہو کر 5–10 فیصد تک محدود کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستانی کسان بھی مؤثر پیداوار اور آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار