چین میں 2030 تک پھیپھڑوں کے کینسر سے اموات 7 لاکھ 60 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ
بیجنگ: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین میں 2030 تک پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی سالانہ اموات 7 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر چین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی کے باعث مجموعی اموات میں اضافے کا امکان ہے۔
چینی محققین نے 2013 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں کینسر سمیت مختلف وجوہات سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں ملک کے 605 نگرانی مراکز سے حاصل ہونے والے تقریباً 2 ارب 37 کروڑ پرسن ایئرز کے اعداد و شمار شامل کیے گئے۔
تحقیق کے مطابق چین میں سگریٹ نوشی اب بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 26.6 فیصد بالغ افراد سگریٹ نوشی کرتے تھے، جبکہ بڑی تعداد میں غیر تمباکو نوش افراد بھی بالواسطہ دھوئیں کا سامنا کرتے ہیں۔
محققین نے فضائی آلودگی اور صنعتی ترقی کو بھی پھیپھڑوں کے کینسر کے مجموعی بوجھ میں ممکنہ طور پر کردار ادا کرنے والے عوامل قرار دیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر سے اموات کی شرح میں کمی آ رہی ہے، تاہم آبادی میں اضافے اور بزرگ افراد کی تعداد بڑھنے کے باعث مجموعی اموات میں اضافہ متوقع ہے۔
محققین نے زور دیا کہ پھیپھڑوں کے کینسر پر قابو پانے کے لیے تمباکو نوشی اور دیگر خطرے کے عوامل میں کمی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے اثرات کو بھی صحتِ عامہ کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔
_2026_09_01_12_00_52_20016757.jpg)


Leave A Comment