وزیراعلیٰ کا صاف ستھرا پنجاب وژن کیا مٹی میں مل گیا؟ ملتان کچرا کنڈی بننے لگا
تحریر: چوہدری عبدالرحیم شاہد
حکومتِ پنجاب کی جانب سے صوبے کو کوڑا کرکٹ سے پاک کرنے اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے "صاف ستھرا پنجاب" وژن کے تحت بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور بیوروکریسی سمیت انتظامی اداروں کو متحرک کرنا ہے۔ تاہم، جنوبی پنجاب کے اہم ترین صنعتی و ثقافتی مرکز ملتان میں صورتحال اس وژن کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔
ملتان میں صفائی کی صورت حال
اس وقت ملتان شہر کے متعدد رہائشی اور تجارتی علاقے شدید انتظامی غفلت کا شکار ہیں، جہاں جگہ جگہ گندگی اور کوڑا کرکٹ کے انبار لگ چکے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں بشمول سمیجہ آباد، پیراغائب روڈ، زیڈ ٹاؤن، المکہ ٹاؤن، نیو ملتان، شاہ رکن عالم کالونی، انصار کالونی، ممتاز آباد، قاسم پور کالونی، لوہار کالونی، ناظم آباد، شریف پورہ، گلگشت، خوشحال کالونی، گلبرگ کالونی، زکریا ٹاؤن، نواب پور روڈ، احمد آباد اور آغاہورہ سمیت دیگر ملحقہ آبادیوں میں کچرے کے ڈھیر پڑے ہیں، جن سے اٹھنے والے تعفن اور بدبو نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ ان ڈھیروں کی وجہ سے مچھروں اور مکھیوں کی بھرپور افزائش ہو رہی ہے، جس کے باعث علاقے میں وبائی امراض پھوٹنے کا سنگین خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

ملتان کےشہری کیا کہتے ہیں؟
شہر کی اس ابتر صورتحال پر عوامی حلقوں اور تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شاہ رکن عالم کالونی کے رہائشی ملک بشیر احمد جو گذشتہ25سال سے اسی کالونی میں رہائش پذیر اور اپنی ڈرنک کارنر کی شاپ چلاتے ہیں کہ مطابق گندگی کے باعث گلیوں سے گزرنا محال ہو چکا ہے،انتظامیہ کو بارہا متوجہ کرنے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ سمیجہ آباد سے تعلق رکھنے والے 40سالہ حبیب انصاریجویہاں کے مستقل رہائشی اور سوئی گیس میں کام کرتے ہیں۔ نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوڑے کے ڈھیر مہینوں سے نہیں اٹھائے گئے، جس کی وجہ سے بچے اور بزرگ مسلسل بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ گلبرگ کے رہائشی شیخ عمران ارشد کے مطابق، صفائی کا عملہ غائب رہتا ہے،شکایات کے باوجود کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا رہا۔
صفائی کی ناقص صورتحال،کاروبارمیں کمی
قومی تاجر اتحاد کے صدر سلطان محمود ملک تجارتی مراکز کی صورتحال سےپریشان ہیں۔ بازاروں اور کاروباری مراکز کے باہر کچرے کی موجودگی سے نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ دور دراز سے آنے والے گاہکوں پر بھی شہر کا انتہائی منفی اثر پڑ رہا ہے، وہ کہتے ہیں اس صورتحال سے تاجر برادری میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
ملتان میں صفائی کس کی ذمہ دار،ذمہ دار کہاں ہیں؟
شہریوں کا الزام ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات صرف فوٹو سیشن اور کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ زمین پر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ سب سے بڑا مسئلہ صفائی کے لیے استعمال ہونے والی بھاری مشینری کی زبوں حالی ہے، جو کچرا کنڈیوں اور ورکشاپس میں تباہ و برباد حالت میں کھڑی ہے۔ قواعد و ضوابط کے تحت معاہدے کے مطابق ان گاڑیوں اور مشینری کو فعال اور درست حالت میں رکھنا ٹھیکیداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے باوجود حکام کی خاموشی اور چشم پوشی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاجر خالد محمود قریشی نے اس صورتحال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت ٹھیکیداروں کو بھاری فنڈز ادا کرتی ہے تو مشینری کی مرمت اور صفائی کے کاموں پر عملدرآمد کی نگرانی کیوں نہیں کی جاتی؟ اسی طرح ملتان کے شہری چوہدری اظہر کا موقف ہے کہ سرکاری وسائل اور گاڑیوں کو ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اور شہریوں کے ٹیکسوں کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے جبکہ شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
سینٹری ورکر کچرا اٹھائیں یا گھر چلائیں
اس تمام تر ابتر صورتحال کے پیچھے سب سے بنیادی وجہ کروڑوں روپے کے بجٹ پر مبنی ٹھیکیداری نظام کا مکمل فلاپ ہونا قرار دیا جا رہا ہے۔ "صاف ستھرا پنجاب" مہم کے تحت کام کرنے والے سینٹری ورکرز گزشتہ کئی ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں، اور یہ تعطل رواں سال سے اب ستمبر 2026 تک مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث مجبور ہو کر یہ ورکرز آئے روز ملتان کے کچہر ی چوک پر سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، جس سے شہر کا ٹریفک نظام اور بلدیاتی امور معطل ہو جاتے ہیں۔ احتجاج کے دوران انتظامیہ کے اعلیٰ افسران مذاکرات کے لیے آتے ہیں اور روایتییقین دہانیوں کے ساتھ ٹھیکیدار سے محض ایک ماہ کی تنخواہ دلوا کر احتجاج ختم کرا دیتے ہیں، مگر اگلے ہی ماہ دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ احتجاج میں شامل سینٹری ورکرز رمضان اور فضل نے کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ٹھیکیدار حکومت سے ہر ماہ کروڑوں روپے کی رقم ایڈوانس میں وصول کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود غریب ملازمین کو وقت پر اجرت نہیں دی جاتی۔ یہ صورتحال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدوں کے تحت صفائی کے ورکرز کو ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک تنخواہوں کی لازمی ادائیگییقینی بنانے کے واضح احکامات اور ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی ہے
کیا ملتان بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟
طبی اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے یہ صورتحال ملتان کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔ نشتر ہسپتال کے نامور طبی ماہر اور اسسٹنٹ پروفیسر میڈیکل ڈاکٹر شہریار کانجو نے اس حوالے سے طبی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کھلے عام پڑے کوڑے کے ڈھیر اور ان سے پھیلنے والا تعفن براہ راست انسانی صحت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں ٹائیفائیڈ، ڈائیریا، گیسٹرو، جلد کی بیماریاں اور ڈینگی و ملیریا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اگر صفائی کی صورتحال فوری بہتر نہ کی گئی تو یہ امراض وبائی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر عباس کا کہنا ہے کہ کچرے کے انبار اور ان کو بعض مقامات پر جلائے جانے کے واقعات سے فضائی اور زمینی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جو ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے متعلقہ محکموں کو قانونی نوٹسز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں روزنامہ ایشیا اردو میں اشاعت
صورتحال کا نوٹس کیوں نہیں لیا جا رہا؟
ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے آن لائن ڈیٹا بیس اور کمپلینٹ سیل پر موصول ہونے والی شکایات کا ریکارڈ دیکھا جائے تو شہریوں کی جانب سے روزانہ سینکڑوں شکایات درج کرائی جا رہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کچرا نہ اٹھانے اور کنٹینرز کے اوور فلو ہونے سے متعلق ہیں، جو کہ عوامی بے چینی کا واضح ثبوت ہے۔اس سنگین انتظامی بحران اور عوامی شکایات پر جب موقف لینے کے لیے چیف آفیسر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی عمران منیر سمیت دیگرمتعلقہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ کسی بھی قسم کا باقاعدہ یا تسلی بخش موقف دینے سے قاصر رہے اور سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ تاہم، ضلعی انتظامیہ کے ترجمان وسیمیوسف نے انتظامیہ کا دفاع کرتے ہوئے اور تمام تر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی کا کوئی مستقل یا بڑا بحران موجود نہیں ہے۔ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دنوں ورکرز کے تنخواہوں کے معاملے پر ہونے والے احتجاج کے باعث ایک سے دو دن صفائی کے نظام میں عارضی طور پر کچھ مسئلہ ضرور پیش آیا تھا، لیکن اب انتظامیہ نے معاملات کو سنبھال لیا ہے اور شہر بھر میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بالکل تسلی بخش ہے اور اب "سب اچھا" کے سوا کچھ نہیں ہے۔ زمینی حقائق، عوامی شکایات، تاجروں کے بیانات اور انتظامیہ کے دعووں کے درمیان پایا جانے والا یہ واضح تضاد اس بات کا متقاضی ہے کہ صوبائی حکومت اپنے وژن کی کامیابی کے لیے ملتان کے انتظامی ڈھانچے اور ٹھیکیداری نظام کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ شہریوں کو اس سنگین ماحولیاتی اور طبی خطرے سے نجات مل سکے۔



Leave A Comment