ملتان میں زرعی جعلی ادویات کی خریدوفروخت عروج پر، کسان پریشان
جعلی زرعی زہروں، کھادوں اور بیجوں نے کاشتکاروں کی محنت پر پانی پھیر دیا، فصلوں کی پیداوار میں کمی، مالی نقصانات میں اضافہ، سرکاری کارروائیاں ناکافی قرار
تحریر: خصوصی رپورٹ خالد محمود
ملتان: جنوبی پنجاب کا زرعی مرکز ملتان اپنی زرخیز زمین، آم، کپاس، گندم، گنا، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار کی وجہ سے ملک بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے، گزشتہ چند برسوں کے دوران زرعی شعبے کو درپیش ایک سنگین مسئلہ جعلی زرعی ادویات، غیر معیاری کھادوں اور نقلی بیجوں کی کھلے عام فروخت ہے۔ اس غیر قانونی کاروبار نے ہزاروں کسانوں کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے اور زرعی پیداوار کو

متاثر کیا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ فصلوں کو بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں سے بچانے کے لیے مہنگی زرعی ادویات خریدتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ استعمال کی گئی دوا جعلی یا غیر معیاری تھی۔ نتیجتاً نہ صرف کیڑے ختم نہیں ہوتے بلکہ فصل مزید کمزور ہو جاتی ہے، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔زرعی ماہرین راشد اقبال ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت ملتان کے مطابق جعلی زرعی ادویات میں فعال کیمیائی اجزاء یا تو موجود ہی نہیں ہوتے یا انتہائی کم مقدار میں شامل کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان میں ایسے مضر کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں جو زمین، پانی، ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جعلی ادویات کا منظم نیٹ ور ک ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں زرعی ادویات کی ہزاروں دکانیں موجود ہیں۔جس پر ملک اشتیاق آرائیں نے کہا کہ محکمہ کو چاہیے کہ ملتان کی تحصیل شجاع آباد واقع دوکانوں پر چھاپے مارکر زرعی جعلی ادویات کو تلف کیا جائے اور ڈیلرز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائےان میں سے بیشتر لائسنس یافتہ ہیں، تاہم کسانوں اور مقامی تنظیموں کے مطابق کچھ عناصر جعلی ادویات تیار کرکے اصل کمپنیوں کے نام سے فروخت کرتے ہیں۔ جعلی ادویات کی پیکنگ اس قدر معیاری انداز میں کی جاتی ہے کہ عام کسان اصل اور نقلی دوا میں فرق نہیں کر پاتا۔ معروف کمپنیوں کے لیبل، لوگو، بوتلوں اور ڈبوں کی ہو بہو نقل تیار کی جاتی ہے،یا کسی ماہرنے دونوں طرح کی ادویات دیکھ کر رائے دی ہے؟جس سے کسان دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کپاس کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثرملتان اور گردونواح میں کپاس کی فصل جنوبی پنجاب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ سفید مکھی، گلابی سنڈی، تھرپس اور دیگر نقصان دہ کیڑوں سے بچاؤ کے لیے کسان مہنگی زرعی زہریں استعمال کرتے ہیں۔متعدد کسانوںکچھ کسانوں کا حوالے کے ساتھ ذکر کریں نے بتایا کہ لاکھوں روپے مالیت کی ادویات استعمال کرنے کے باوجود کیڑوں کا خاتمہ نہیں ہوا، جس کے باعث دوبارہ سپرے کرنا پڑا۔ اس سے اخراجات دوگنا ہوگئے جبکہ فصل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ آم کے باغات بھی متاثرملتان دنیا بھر میں آم کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، مگر باغبان بھی جعلی زرعی ادویات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ باغبانوں کا کہنا ہے کہ پھل کی مکھی، پھپھوندی اور دیگر بیماریوں کے خاتمے کے لیے خریدی گئی کئی ادویات غیر مؤثر ثابت ہوئیں، جس کے نتیجے میں پھل کا معیار اور برآمدی صلاحیت متاثر ہوئی۔سبزیوں اور پھلوں کے کاشتکاروں کو نقصان ٹماٹر، مرچ، بینگن، پیاز، بھنڈی، آلو، کھیرا، تربوز اور دیگر سبزیوں کے کاشتکار بھی جعلی زرعی ادویات کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ متعدد علاقوں میں سبزیوں کی فصلوں پر کیڑوں کے حملے بڑھ گئے کیونکہ استعمال کی گئی ادویات غیر معیاری تھیں۔ جعلی کھادیں بھی مسئلہ صرف زرعی زہریں ہی نہیں بلکہ غیر معیاری کھادوں کی فروخت بھی کسانوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ کسانوں کے مطابق بعض کھادوں میں مطلوبہ غذائی اجزاء موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث فصل مناسب نشوونما حاصل نہیں کر پاتی۔زرعی ماہرین کے مطابق غیر معیاری کھادیں زمین کی زرخیزی کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدت میں مٹی کی ساخت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ نقلی بیجوں کا کاروبارجعلی بیجوں کی فروخت بھی کسانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ متعدد کسانوں نے شکایت کی کہ مہنگے داموں خریدے گئے بیجوں کی اگاؤ کی شرح انتہائی کم رہی، جس سے انہیں دوبارہ کاشت کرنا پڑی۔بیجوں کے ناقص معیار کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہوا بلکہ مزدوری، آبپاشی، کھاد اور دیگر اخراجات بھی بڑھ گئے۔ مالی نقصانات میں اضافہ زرعی تنظیموں کے مطابق جعلی زرعی ادویات کے باعث کسانوں کو ہر سال کروڑوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک ایکڑ فصل پر کئی مرتبہ سپرے کرنا پڑتا ہے، جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے آمدنی متاثر ہوتی ہے۔چھوٹے کسان اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دوبارہ ادویات خریدنے یا فصل کی بحالی کے لیے اضافی سرمایہ موجود نہیں ہوتا۔ صحت اور ماحول کے لیے خطرہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی زرعی ادویات میں شامل غیر معیاری کیمیکل ماحول، زیر زمین پانی، جانوروں اور انسانوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ بعض ادویات کے مضر اثرات خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ محکمہ زراعت کا مؤقفمحکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی زرعی ادویات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ نمونے حاصل کیے جاتے ہیں اور غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے گذشتہ ایک سال کے ملتان اور دیگر شہروں کے اندرچھاپے مارے جن میں 15 ڈیلرز کے اوپر ایف آئی آر ہوئیںاور مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔حکام کے مطابق کسانوں کو صرف رجسٹرڈ ڈیلرز سے ادویات خریدنی چاہئیں، خریداری کی رسید محفوظ رکھنی چاہیے اور مشکوک مصنوعات کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینی چاہیے۔ کسانوں کے مطالباتکاشتکار تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:* جعلی زرعی ادویات بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے۔* غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والے ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔* کسانوں کو معیاری زرعی ادویات مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں۔
مزید پڑھیں : روزنامہ ایشیا اردو میں اشاعت
ہر ضلع میں زرعی ادویات کی باقاعدہ لیبارٹری قائم کی جائے۔* موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے ذریعے دیہات میں ادویات کی جانچ کی سہولت فراہم کی جائے۔* کسانوں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ وہ اصل اور جعلی مصنوعات میں فرق کر سکیں۔ ماہرین کی تجاویززرعی سائنسدانوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ ہر زرعی دوا پر موجود کوڈ کے ذریعے اس کی اصل کمپنی اور رجسٹریشن کی تصدیق کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ڈیلرز کی باقاعدہ تربیت، مارکیٹ کی سخت نگرانی، اور سزا و جزا کے مؤثر نظام کے بغیر جعلی ادویات کی روک تھام ممکن نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کو بھی چاہیے کہ غیر معمولی سستی ادویات خریدنے سے گریز کریں، خریداری سے قبل رجسٹریشن نمبر، پیکنگ، میعادِ استعمال اور کمپنی کی تفصیلات کا بغور جائزہ لیں۔ حکومتی ذمہ داریزرعی شعبہ پاکستان کی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ ملکی برآمدات میں بھی زرعی اجناس کا اہم حصہ شامل ہے۔ اگر جعلی زرعی ادویات اور غیر معیاری زرعی مصنوعات کی فروخت پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف کسانوں کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ زرعی پیداوار، خوراک کی دستیابی اور ملکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ نتیجہملتان اور جنوبی پنجاب میں جعلی زرعی ادویات، کھادوں اور بیجوں کی فروخت ایک سنگین معاشی اور زرعی مسئلہ بن چکی ہے۔ اس غیر قانونی کاروبار نے کسانوں کی محنت، سرمایہ اور امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر حکومت، محکمہ زراعت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، زرعی کمپنیوں اور کسان تنظیموں نے مشترکہ حکمت عملی اختیار نہ کی تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سخت قانونی کارروائی، مؤثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، عوامی آگاہی اور معیاری زرعی مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کا اعتماد بحال ہو، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور پاکستان کا زرعی شعبہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔



Leave A Comment