صاف پانی خواب بن گیا، عوام گندا اور بدبودار پانی پینے پر مجبور
ترتیب و تحریر ۔۔
محمد اظہر خان داؤدی
صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر افسوس آج بھی پنجاب کے ایک ڈویژن کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر سٹی ڈیرہ غازی خان میں یہی بنیادی حق شہریوں سے چھین لیا گیا ہے۔ شہر کے متعدد علاقوں میں واسا کی جانب سے فراہم کیے جانے والے پانی کے بارے میں شہری مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں بدبودار، گدلا اور سیوریج سے آلودہ پانی کی سپلائی دی جا رہی ہے۔ عوام ہر ماہ باقاعدگی سے واسا کے بل ادا کرتی ہے، لیکن بدلے میں انہیں ایسا پانی مل رہا ہے جو صحت کے لیے انتہائی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔
شہر کی صفائی کا نظام بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ گلیاں، بازار، نالیاں اور سیوریج کا ناقص انتظام شہریوں کے لیے مستقل اذیت بن چکا ہے۔ تعفن اور گندگی ستھرا پنجاب پر سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہے، مگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان کی عوام کے منتخب نمائندے بھی ان بنیادی مسائل پر مؤثر آواز اٹھاتے دکھائی نہیں دیتے ۔ حلقے کے ایم پی اے محترم حنیف خان پتافی اور اسامہ عبدالکریم سے عوام یہ سوال کر رہی ہے کہ آخر وہ اپنے حلقوں کے مسائل پر کب متحرک ہوں گے؟ اگر عوام کا تاثر یہ بن رہا ہے کہ وہ صرف اپنے نام کے ساتھ "ایم پی اے" کا ٹیگ لگانے تک محدود ہیں اور شہریوں کے روزمرہ مسائل میں ان کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی، تو یہ تاثر خود ان کی سیاسی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ عوام کو فوٹو سیشن، بیانات اور رسمی ملاقاتوں سے زیادہ صاف پانی، صاف گلیاں اور فعال نمائندگی درکار ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں عوامی خدمت، صفائی، شہری سہولیات اور بہتر طرزِ حکمرانی کا واضح ویژن پیش کیا ہے، لیکن اگر ڈیرہ غازی خان میں واسا اور متعلقہ ادارے اس ویژن پر عمل درآمد میں ناکام ہیں تو یہ نہ صرف عوام کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ وزیراعلیٰ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اداروں اور افسران سے جواب طلب کیا جائے اور کارکردگی کی بنیاد پر سخت احتساب کیا جائے۔
آلودہ پانی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے،
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ آلودہ پانی ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، معدے اور آنتوں کی متعدد بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ جب شہریوں کی صحت خطرے میں ہو تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ عوامی مفاد سے سنگین لاپرواہی تصور کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف سہولت کا نہیں بلکہ عوامی صحت کا بھی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کے عوام وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واسا کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے، پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، اور منتخب نمائندوں کو بھی اپنے حلقوں کے عوام کے مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔
ایشیا اردو اخبار میں پبلش مواد۔آرٹیکل
ڈیرہ غازی خان کے عوام اب صرف وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ صاف پانی ان کا حق ہے، احسان نہیں۔واسا کی انتظامیہ کو چاہیے کہ پانی کی سپلائی لائنوں اور سیوریج لائنوں کا فوری تکنیکی معائنہ کرے، جہاں آلودگی یا لیکیج ہو اسے ہنگامی بنیادوں پر درست کرے، پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ کروائے، اور صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ صرف بل وصول کرنا کسی ادارے کی کامیابی نہیں، اصل کامیابی عوام کو معیاری خدمات فراہم کرنا ہے


_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment