میپکو کی نجکاری کے خلاف محنت کشوں کا اعلانِ جنگ: کیا حکومتی مصلحتوں کے سامنے مزدور کا پسینہ سدِ سکندری بن پائے گا؟
تحریر: چوہدری عبدالرحیم شاہد
حکومتِ پاکستان کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈکٹیشن پر آنکھیں بند کر کے ملک کے خسارے میں چلنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ اب منافع بخش قومی اثاثوں کو بھی کوڑیوں کے دام نجی ہاتھوں میں بیچنے کا فیصلہ ایک کھلم کھلا مزدور دشمنی کی علامت بن چکا ہے۔ اسی ظالمانہ فیصلے کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی الیکٹرک پاور تقسیم کار کمپنی، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے غیور محنت کشوں نے آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے زیراہتمام میپکو ریجن میں ایک تاریخی اور جرات مندانہ "یوم احتجاج" منا کر حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ میپکو ہیڈ کوارٹرز، خانیوال روڈ ملتان کے سامنے سینکڑوں جان نثار اور غریب ملازمین نے ریجنل چیئرمین چوہدری غلام رسول گجر کی قیادت میں اس نجکاری کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا، جبکہ خانیوال، ساہیوال، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور، رحیم یار خان، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان سرکلز میں بھی زونل اور ڈویژنل چیئرمینوں کی سربراہی میں مظلوم مزدور سڑکوں پر نکل آئے۔ احتجاجی محنت کشوں نے "نجکاری نا منظور"، "یہ بیماری نہ منظور" اور "نجکاری کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے" جیسے فلک شگاف اور انقلابی نعروں سے ایوانِ اقتدار کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے خون پسینے سے سینچے گئے ادارے کا سودا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ محنت کشوں کے اس سمندر سے خطاب کرتے ہوئے یونین قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی آقاؤں کے مطالبات کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دیں اور میپکو کی نجکاری فوری روکیں۔ اس احتجاج کی خاص بات یہ تھی کہ واپڈا ہائیڈرو یونین نے حکومت کی جانب سے بجلی کمپنیوں میں یونینز پر عائد کردہ چھ ماہ کی پابندی کے آمرانہ احکامات کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے اسے "جوتے کی نوک" پر رکھا اور ثابت کیا کہ جب مزدور کے چولہے کو ٹھنڈا کرنے کی سازش کی جائے گی تو کوئی بھی کالا قانون ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔حکمران طبقہ شاید یہ بھول چکا ہے کہ میپکو کے یہ غیور مزدور ورکرز اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر، پچاس ڈگری کی تپتی دھوپ، طوفان اور شدید موسموں میں ہائی وولٹیج لائنوں پر موت کے سائے میں کام کرتے ہوئے ملک بھر کی معیشت اور گھروں کو روشن رکھتے ہیں۔ ان محنت کشوں کی دن رات کی انتھک محنت، ایمانداری اور قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ماضی میں اربوں روپے کے خسارے کا سامنا کرنے والی یہ کمپنی آج ملک کے چند بڑے منافع بخش اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اداروں میں شمار ہوتی ہے، مگر افسوس کہ حکومت انعام دینے کے بجائے انہیں بے روزگاری اور معاشی قتل کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ محنت کشوں کا یہ گلہ اور غصہ سو فیصد جائز ہے کہ گزشتہ 10 سال سے محکمے میں نئی بھرتیوں پر ظالمانہ پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے موجودہ فیلڈ اسٹاف کو دوہرا کام کرنا پڑتا ہے اور اسی اضافی کام کے دباؤ اور حکومتی غفلت کے باعث آئے دن لائن اسٹاف کے جگر گوشے کام کے دوران جان لیوا حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں، پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ محنت کشوں کی اس معصوم آواز اور جرات کو ہر فورم پر اتنی قوت سے اٹھائے کہ پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہے اور اس جنگ کو فوٹو سیشن بننے کے بجائے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ لیکن اس احتجاجی تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یونین قیادت ان اندرونی تضادات کو بھی ختم کرے جو مزدوروں کے اس عظیم جذبے کو کمزور کر سکتے ہیں۔ایک طرف جہاں غریب مزدور اپنی جان کی بازی لگا کر کمپنی کو منافع بخش بنا رہا ہے، دوسری طرف پاور ڈویژن نے میپکو کی انتظامیہ پر ایسے پرائیویٹ افسران کو مسلط کر دیا ہے جن کا مقصد ہی نجکاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔ حکومت نے چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو گل محمد زاہد، چیف فنانس آفیسر میاں انصار محمود، کمپنی سیکرٹری ساجد یعقوب انصاری، چیف ہیلتھ سیفٹی آفیسر تیمور خان، اور چیف میراڈ سہیل بھٹی کو مختلف اوقات میں تین تین سال کے بھاری نجی کنٹریکٹ پر تعینات کیا، جو پہلے اسی محکمے میں سرکاری افسر تھے اور اب چھٹی پر جا کر ڈبل مراعات اور شاہانہ تنخواہوں کے ساتھ واپس آ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب غریب مزدور لائن پر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہا ہے، تو ان مراعات یافتہ افسران بالا کے استقبال میں یونین قیادت نے پھولوں کے ہار کیوں پہنائے؟ کیا محنت کشوں کے حقوق کی جنگ ان پرائیویٹ افسران کے ساتھ مصلحت پسندی کر کے جیتی جا سکتی ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ یونین قیادت مصلحتوں کے تمام بت توڑ کر ان غیور محنت کشوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو، کیونکہ یہ جنگ صرف میپکو کو بچانے کی نہیں بلکہ ہزاروں مزدوروں کے خاندانوں کی بقا کی جنگ ہے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری، جن کا تعلق اسی جنوبی پنجاب کے خطے سے ہے اور جو خود میپکو کے صارف ہیں، انہیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے ہی خطے کے ان محنت کشوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے دیں گے جن کی بدولت میپکو منافع بخش بنی؟ اگر حکومت نے منافع بخش کمپنی کی نجکاری کا یہ فیصلہ واپس نہ لیا اور ان ڈبل مراعات والے افسران کو نہ ہٹایا، تو محنت کشوں کا یہ غیظ و غضب ایک ایسے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر جائے گا جسے روکنا حکمرانوں کے بس میں نہیں رہے گا۔
_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)

_2026_07_22_16_02_34_68616949.png)
Leave A Comment