امن دشمن عناصر کے تانے بانے تحریک طالبان سے ملتے ہیں، آئی جی پنجاب
کچہ رجوانی کے علاقے میں خطرناک دہشتگردوں کیخلاف 13 روزسے آپریشن جاری ہے، جہاں پولیس نے سکھانی اورلٹھانی گینگ کے بیس خطرناک دہشت گردوں کیخلاف مزید گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کچہ رجوانی کے علاقے میں خطرناک دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشن کی صورتحال کا جائزہ لینے جنوبی پنجاب پہنچ گئے۔
آئی جی پنجاب اور دیگر افسران نے نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کو آپریشن سے متعلق بریفنگ دی۔ پنجاب پولیس حکام کے مطابق کچہ رجوانی میں سکھانی اور لٹھانی گینگ اٹھارہ سے بیس دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہں۔
سی ٹی ڈی کا حوالہ دے کر کہا کہ ان علاقے میں جو فون کالز ہوئیں وہ تحریک طالبان سے ملتے ہیں، 23 ہزار ایکڑ کے قریب علاقہ کلئیر کروا لیا گیا ہے جبکہ دشمن دہشت گردوں سے زیادہ تربیت یافتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے میں اسکول اور ڈسپنسریاں بنیں گی، وہاں موجود ڈاکوؤں نے پولیس پر راکٹ لانچرز فائر کئے، ڈاکو اپنا ٹھکانہ بدلتے رہتے ہیں اور اپنی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں، اگر الیکشن کمیشن نے اجازت دی تو سڑکوں کو فوری بنایا جائے گا۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ یہ دہشت گرد اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ملزمان گرفتار ہو جائیں گے، بہت سارے گینگز نے پولیس سے رابطہ کیا کہ میں ہتھیار ڈال رہے ہیں، یہ علاقہ کلئیر کروانا چند دنوں کا کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دفعہ جہاں سے راکٹ لانچرز فائر ہوئے ہم نے اس جگہ کو بھی کلئیر کروا لیا ہے، یہ انتہائی زرخیز علاقہ ہے ان کے پاس ہر چیز موجود ہے، اسلحہ کی سپلائی ان کی منقطع ہو گئی ہے، چیف الیکشن کمیشن جو حکم کریں گے وہ کریں گے۔
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ سی ایم پنجاب صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کچے کا دورہ کیا، پولیس نے نگران وزیراعلی محسن نقوی کو بریفنگ دی، نوگوایریا کو ختم کرنے کے لئے 11 ہزار پولیس اہلکار آپریشن میں حصہ کے رہے ہیں، درجنوں چیک پوسٹس پولیس نے مستقل بنیادوں پر قائم کر لی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی ممکن ہے، ان علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھانے کے لئے فیصلے کئے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کی آپرووول کے بعد یہ فیصلے کئے جائیں گے۔



Leave A Comment