تعلیم سے روزگار تک نوجوانوں کے مستقبل کے راستے میں روکاوٹیں
تحریر
مدیحہ امین ( لاہور لیڈز یونیورسٹی)
پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی تقریبا دو تہائی آبادی تیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اگر نوجوان تعلیم یافتہ، ہنرمند اور خودمختار روزگار کے حامل ہوں تو ماہرین معاشیات اس صورت حال کو "آبادیاتی سرمایہ" کہتے ہیں۔ لیکن اگر یہی نوجوان بےروزگاری ، معیاری تعلیم اور مہارت سے محروم ہوں تو قومیں معاشی ترقی کے بجائے سماجی بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔ روزگار کا مسئلہ صرف معاشیات کا مرہون منت نہیں بلکہ تعلیمی منصوبہ بندی، فنی تربیت اور قومی پالیسی سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔پاکستانی جامعات ہر سال بے شمار انجنیئرز، ڈاکٹرز، کمپیوٹر اور سماجی ماہرین کو ڈگریاں فراہم کرتی ہیں مگر ان میں سے اکثریت یا تو بے روزگار رہتی ہے یا ایسے شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے جن کا ان کی ڈگری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس(PIDE) نے اپنی ریسرچ رپورٹس میں اس مسئلے کو "Educated Unemployment " قرار دیا ہے۔ یعنی نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ تو ہے مگر معیشت ان کے لئے مناسب ملازمتیں پیدا نہیں کر رہی۔ دوسری طرف پچھلے کچھ سالوں سے لیبر آرگنائزیشن(ILO) بھی مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بالغ افراد کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہے جو بہت سے جرائم اور معاشرتی و ذہنی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان میں اس صورتحال کا ایک سبب یہ ہے کہ یہاں تعلیم اور صنعت دو الگ الگ دنیا میں کام کرتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں صنعتیں تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر نصاب تیار کرتی ہیں ، ریسرچ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور طلبہ کو دوران تعلیم انٹرن شب فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں عملی تعلیم کی کمی ہے اور طلبہ ڈگری مکمل کرنے تک کسی صعنت یا ادراے کا پریکٹیکل ماحول ہی نہیں دیکھ پاتے اور صرف کتابوں پہ منحصر رہتے ہیں۔ اس لئے اکثر کمپنیوں کو نئے گریجویٹس بھرتی کرنے کے بعد نئے سرے سے تربیت دینی پڑتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے حالیہ برسوں میں Outcome-Based Education اور Industry Linkages جیسے اقدامات سے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے پر اس کے اثرات ابھی تک محدود ہیں۔ بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ چند شعبوں تک محدود ہو جانا اور فنی تعلیم کو کم تر سمجھنا بھی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں ایک غلط تصور برسوں سے موجود ہے کہ کامیابی صرف میڈیکل، انجینئرنگ یا مقابلے کے امتحان کے ذریعے سرکاری افسر لگ جانے میں ہے۔ یہی سوچ نوجوانوں کو ایسے شعبوں کی طرف دھکیل دیتی ہے جہاں ملازمتیں پہلے سے ہی محدود ہوتی ہیں۔ جبکہ مارکیٹ میں الیکٹریشن، سولر ٹیکنیشن، CNC آپریٹر، ویلڈر،آٹومیشن سپیشلسٹ، HVAC ٹیکنیشن اور دیگر شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ NAVTTC اور مختلف صوبائی TEVTA ادارے فنی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن ان کی آسان رسائی اور مارکیٹ سے روابط ابھی تک اعلیٰ سطح تک نہیں پہنچ سکے۔دنیا چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، گرین انرجی اور ڈیجٹل مارکیٹنگ معیشت کا رخ مقرر کر رہے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی " فیوچر آف جابز" رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آئندہ سالوں میں لاکھوں روایتی ملازمتوں کی جگہ نئی ملازمتیں لے لیں گی اور صرف ہنر مند افراد کے لئے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہوں گے۔پاکستان کے فنی تعلیمی نظام پر ایک حالیہ ریسرچ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ روزگار کے مسائل کو ایک مربوط قومی حکمت عملی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے کا دیرپا حل صرف نئی ملازمتیں پیدا کرنا نہیں بلکہ تعلیم ، ہنرمندی اور معیشت کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے میں ہے ۔ نصاب کو مارکیٹ کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، تعلیمی اداروں میں رٹہ سسٹم ختم کر کے عملی تربیت پر توجہ دی جائے اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں۔ مزید نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے اور ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کے لئے آسان شرائط پر گورنمنٹ کی طرف سے قرض فراہم کئے جائیں۔


_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment