فیصل آباد — گھیا کدو اپنی ٹھنڈی تاثیر کی وجہ سے شوگر، بلڈ پریشر، دل، جگر، پھیپھڑوں، کھانسی اور دمہ کے امراض میں مفید ثابت ہوا ہے۔ کاشتکار میدانی علاقوں میں گول اور لمبی لوکی اقسام کی کاشت کرکے ایک سال میں تین فصلیں حاصل کر سکتے ہیں۔

پرنسپل سائنٹسٹ شعبہ سبزیات، ایوب ریسرچ، سجاد سعید نے بتایا کہ گھیا کدو موسم گرما کی ایک انتہائی اہم اور مفید سبزی ہے، جس میں نشاستہ، چکنائی، کیلشیم، آئرن، فاسفورس اور وٹامنز موجود ہیں۔ فیصل آباد گول سب سے زیادہ پیداوار دینے والی قسم ہے، جس کے لیے فی ایکڑ 2 سے 2.5 کلوگرام بیج استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے ہدایت دی کہ ذرخیز زمین میں جس میں نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہو اور دیر تک پانی برقرار رکھ سکے، گھیا کدو کی کاشت بہترین نتائج دیتی ہے۔ بوائی سے قبل کھیت میں 10 سے 15 ٹن گوبر کی کھاد ملانے سے پیداوار میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ کھادوں کا مناسب تناسب استعمال کرنا بھی ضروری ہے تاکہ فصل کی نمو بہتر ہو۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار