عالمی منڈی کا کھیل اور لیوی کی مار: پٹرولیم کا نیا فارمولا غریب کا معاشی قتلِ عام
تحریر: چوہدری عبدالرحیم شاہد
وفاقی کابینہ کی جانب سے نئے پٹرولیم پرائسنگ میکانزم کی منظوری نے ملک بھر میں ایک نئی معاشی و سیاسی بحث اور غریب عوام میں تشویش کی گہری لہر دوڑا دی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب پندرہ روزہ بنیادوں کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مقرر ہوں گی، جن کا اعلان آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر کاروباری روز اپنی ویب سائٹ پر ایکس ڈپو قیمتوں کی شکل میں کرے گا۔ اگرچہ ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں مستحکم رہیں گی اور قیمتوں کا تعین گزشتہ سات ورکنگ دنوں کی رولنگ اوسط یا درآمد نہ ہونے کی صورت میں رواں سال کے آغاز سے اب تک کی اوسط قیمت (CYTD) کی بنیاد پر کیا جائے گا، لیکن اس پورے نظام سے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کا اختیار مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس نئی پالیسی کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو زیادہ شفاف، عالمی مارکیٹ کے ہم آہنگ اور حقیقت پسندانہ بنانا ہے، تاہم عوامی حلقوں اور معاشی ماہرین کی نظر میں یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر من و عن عملدرآمد اور ایران امریکہ کشیدگی جیسے عالمی بحرانوں کے اثرات براہِ راست غریب عوام کی جیبوں پر منتقل کرنے کی ایک سوچی سمجھی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ریاستیں اپنے بنیادی ریگولیٹری کردار اور ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتی ہیں، تو اس کا سب سے بڑا خمیازہ اس عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے سسک رہا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ کے موازنے اور معاشی حقائق کو دیکھا جائے تو دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین یا ڈی ریگولیشن صرف ان آزاد معیشتوں میں کامیاب ہوتا ہے جہاں مسابقت کی کھلی فضاء ہو اور حکومتیں ٹیکسوں کے ذریعے عوام کا خون نہ چوس رہی ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہوتا ہے تو اس کا پورا فائدہ چند گھنٹوں میں عوام تک منتقل ہوتا ہے کیونکہ وہاں کی ریاستیں اپنے شہریوں کو تحفظ دیتی ہیں، لیکن پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو ملک میں فوری طور پر قیمتوں کا ہائیڈروجن بم گرا دیا جاتا ہے، اور اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں زمین پر بھی آ جائیں تو حکومت پٹرولیم لیوی کی شرح بڑھا کر غریب عوام کو ریلیف سے محروم کر دیتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی کی بھاری شرح مقرر کرنا اور لیوی کو آخری حد تک برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پیٹرول کو عوامی سہولت کے بجائے صرف ٹیکس اکٹھا کرنے کا ایک بے رحم ذریعہ سمجھتی ہے۔ پٹرولیم لیوی کی مد میں غریب کی چمڑی ادھیڑنے والی حکومت اب روزانہ قیمتوں کے اس نئے فارمولے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ پٹرول کی اصل قیمت پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ برقرار رہے اور جب بھی عوام دہائی دیں تو عالمی منڈی کا بہانہ بنا کر پلہ جھاڑ لیا جائے۔اس فیصلے پر سیاسی پنڈتوں اور اپوزیشن جماعتوں کا تبصرہ بھی انتہائی تلخ ہے، جن کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمران اشرافیہ نے ملکی معیشت کی چابی مکمل طور پر بیرونی مالیاتی اداروں کے حوالے کر دی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کو سونپنا دراصل عوامی جوابدہی سے بچنے کی ایک سیاسی چال ہے۔ جب قیمتیں روزانہ بڑھیں گی تو حکومت آسانی سے یہ کہہ سکے گی کہ اس میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ یہ اوگرا کا خودکار فارمولا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کا بھاری منافع خاموشی سے سرکاری خزانے میں جاتا رہے گا۔ دوسری جانب، عوامی سطح پر کیے گئے حالیہ سروے کے اعداد و شمار اس معاشی سنگینی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ مختلف آزاد تھنک ٹینکس اور سروے رپورٹس کے مطابق پاکستان کے 87 فیصد عوام پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں کو ہی اپنی برداشت سے باہر قرار دے چکے ہیں، جبکہ 92 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ قیمتوں کا روزانہ بدلنا ملک میں خودساختہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور تاجروں کی اجارہ داری کو جنم دے گا۔ سروے میں شامل 78 فیصد تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول کا روزانہ کا اتار چڑھاؤ ان کے ماہانہ بجٹ کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دے گا۔اس نئے نظام کے تحت غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف ملنے کی امیدیں انتہائی موہوم، بلکہ ناپید دکھائی دیتی ہیں۔ معاشی اصولوں کے مطابق جب پٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بدلیں گی، تو پبلک ٹرانسپورٹرز، گڈز ٹرانسپورٹ مافیا اور منافع خور تاجروں کو عوام پر راج کرنے اور ان کی ہڈیاں تک چبانے کا کھلا لائسنس مل جائے گا۔ ہمارے ہاں جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چند پیسے کا بھی اضافہ ہوتا ہے، تو کرایوں اور اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا خودساختہ اضافہ کر دیا جاتا ہے، لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے پر ٹرانسپورٹرز یا مافیا کبھی کرائے کم نہیں کرتے۔ اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بدلنے سے ٹرانسپورٹ مافیا روز نیا بہانہ تراشے گا، جس کے نتیجے میں غریب مسافروں، دیہاڑی دار طبقے، طالب علموں اور نوکری پیشہ افراد کا سڑکوں پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ روزانہ کا جھگڑا، گالی گلوچ اور ذہنی اذیت ایک مستقل معمول بن جائے گی اور یوں پورا معاشرہ ایک شدید ہیجان اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔سب سے سنگین صورتحال روزمرہ کی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام اور غریب کے چولہے کے حوالے سے پیدا ہوگی۔ پاکستان میں ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور مارکیٹ کمیٹی کے مجسٹریٹس پہلے ہی پندرہ روزہ بنیادوں پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور سرکاری نرخ نامے نافذ کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، ایسے میں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد مارکیٹ پر نظر رکھنا اور چیک اینڈ بیلنس قائم کرنا انتظامی طور پر بالکل نامکن معلوم ہوتا ہے۔ سبزیوں، پھلوں، دودھ, دالوں اور گھی لانے والی گاڑیوں کا ایندھن مہنگا ہوتے ہی دکاندار اور آڑھتی اگلی صبح سے ہی نئی قیمتیں نافذ کر دیں گے، جبکہ قیمت کم ہونے پر "پرانا اسٹاک مہنگا خریدا تھا" کا راگ الاپا جائے گا۔ اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک ایسا یومیہ طوفان برپا ہوگا جو غریب کی قوتِ خرید کو یکسر ملیا میٹ کر دے گا۔ ایک ایسی معیشت میں جہاں اجرتیں مہینوں اور سالوں تک نہیں بڑھتیں، وہاں روزانہ کی بنیاد پر خوراک کا مہنگا ہونا غریب کے بچوں سے ادویات، تعلیم اور تن ڈھانپنے کا کپڑا تک چھین لے گا۔ پٹرول اب محض گاڑیوں کا ایندھن نہیں رہا، بلکہ یہ غریب کی تھالی میں موجود روٹی کی قیمت کا تعین کرتا ہے، اور اس حساس رگ کو یکسر آزاد چھوڑ دینا معاشی عدم استحکام کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اس تمام صورتحال پر غریب پاکستانی عوام کا ردعمل شدید مایوسی، غصے، صدمے اور بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کی حد مقرر کرنے، اوگرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت اس پالیسی کے نفاذ، یا لیوی میں تبدیلی کے لیے وزارتِ خزانہ کی منظوری جیسی پیچیدہ تکنیکی اور قانونی باتیں اس غریب مزدور کی سمجھ سے بالاتر ہیں، جسے صرف اس بات سے غرض ہے کہ وہ شام کو اپنے بچوں کے لیے خشک روٹی کما کر گھر لوٹ سکے گا۔ عوام یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ریاست نے پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کو دے کر خود کو عوامی جوابدہی اور سیاسی تنقید سے بری الذمہ کر لیا ہے، تاکہ جب بھی عالمی منڈی یا آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث قیمتیں بڑھیں، تو حکمران یہ کہہ کر پلہ جھاڑ سکیں کہ یہ تو ایک خودکار مارکیٹ سسٹم ہے اور اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ غریب طبقہ خود کو اس معاشی جنگل میں بالکل اکیلا اور بے یار و مددگار محسوس کر رہا ہے جہاں طاقتور مافیاز کو لوٹ مار کی کھلی چھوٹ مل چکی ہے۔ اگر حکومت نے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں پر فل فور کوئی سخت، ڈیجیٹل اور عملی کنٹرول برقرار نہ رکھا اور مافیاز کو غریبوں کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا، تو یہ نیا پرائسنگ میکانزم سفید پوش طبقے کے معاشی قتلِ عام کے مترادف ثابت ہوگا اور اس مسلسل ناانصافی سے پیدا ہونے والا عوامی لاوا کسی بھی وقت ایک ایسے بے ہنگم احتجاج کی شکل میں پھٹ سکتا ہے جسے سنبھالنا پھر کسی انتظامیہ یا حکومت کے بس میں نہیں رہے گا
_2026_07_22_16_02_34_68616949.png)

_2026_07_24_13_17_24_24515247.png)
Leave A Comment