فکر امروز 
عزیز میرانی

کوئی عوام کے درد میں گھلا جاتا تھا تو کوئی گلا پھاڑ پھاڑ کر ووٹ کو عزت دیتا تھا۔
کوئی سب پر بھاری تھا تو کسی کو آئین کا تناظر بار بار یاد آتا تھا۔ 
کوئی دوسروں کو سڑکوں پر گھسیٹنا چاہتا تھا تو کوئی دوسرے کا پیٹ پھاڑنا چاہتا تھا۔
کوئی مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا روتا تھا تو کسی کو اسلام خطرے میں نظر آتا تھا۔
کوئی اینٹوں کے بھٹے لگا کر اینٹ سے اینٹ بجانے کا شوق پورا کرتا تھا تو کوئی زیادہ بارش میں زیادہ پانی آنے کے فلسفے بیان  کرکے عوام کے علم میں اضافہ کرتا تھا۔ 
یہاں تک کہ ایسی غریب اور مسکین خواتین بھی موجود تھیں جن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہی تھی۔
ایسے ایسے فلسفی، پروفیسر، ڈاکٹر تھے جنہوں نے جعلی ڈگری کے الزامات کے بعد اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر تو ہٹا دیا لیکن اپنی خامیوں کے اعتراف اور اصلاح احوال پر توجہ دینے کی بجائے جن سے قرض لیتے تھے انہی کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے عالی مقام پروفیسر ہونے کا ثبوت دیتے تھے۔ 
ایسے قابل ترین ہیرے بھی انہی میں موجود تھے جنہوں نے پرائیویٹ اکاؤنٹ دیکھتے دیکھتے پورے ملکی خزانوں کی چابیاں ہی اپنے ہاتھوں میں لے لی تھیں اور جن کے بیرون ملک ٹاورز اپنے مالکوں کے بیش بہا فلیٹوں اور محلوں کو شرمانے لگے تھے۔
ان میں ایسے ماہر قوانین اور انصاف کا بول بالا کرنے والے سرمچار بھی تھے جنہوں نے متاثرین کو فوری، ارزاں اور دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے دعووں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آئین ہی بدل دیا، عدالتیں بدل دیں، نظام انصاف بدل دیا۔ 
انہی میں ایسے منصف بھی تھے جنہوں نے  ناانصافی کے خلاف ملک بھر کی سڑکیں بھر دی تھیں۔ ایک منصف تو ایسا بھی تھا جس کی ذات ہی قاضی تھی۔
اور انہی صفوں میں ایسے قلمکار اور صحافی بھی تھے جو دن رات اپنے آپ کو حق گوئی و بیباکی کے مینار ثابت کرنے میں لگے رہتے تھے۔
***********
پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ چشم فلک نے ناقابل یقین منظر دیکھا۔ انسان نے ایسا رنگ بدلا
بقول شاعر ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز 
سب باہم شیر و شکر ہوگئے۔ 
ایک ہی تھالی سے بیٹھ کر کھانے لگے.
شیر بکری سب ایک ہی گھاٹ کا پانی پینے لگے۔ 
اور سب اپنے اپنے دفتروں میں سرکاری نوکری کرنے لگے۔
***********
اے میری قوم .................. 😭
تو کب جاگے گی؟
ضمیر کی آواز کب سنے گی؟ 
عقل سلیم کب استعمال کریگی؟ 
معمولی مفاد، تعصب یا افراد کی اندھی تقلید و وابستگی کی پٹی اپنی آنکھوں سے کب اتار پھینکے گی؟
کردار کو عظمت کب دیگی؟
***********
میرا کسی سے ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔ زندگی کی شام اور سورج غروب ہوتے وقت شرمندہ نہیں ہونا چاہتا کہ سچ نہ بولا، سچ نہ لکھا۔ اس لئے اپنی بساط کے مطابق اپنا فرض پورا کرتا رہتا ہوں۔
***********
 شاعر سے تصرف کے لئے معذرت کے ساتھ :-
دائم آباد رہے گی یہ دنیا ساری 
میں نہ ہونگا تو کوئی مجھ سا ہوگا۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار