بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات عالمی سطح پر توجہ اور تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسلحہ تعاون خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جاری صورتحال کے تناظر میں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون رکھتا ہے اور اس کی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی اسلحہ اور بارود کی ہزاروں کھیپوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے اس تعاون کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔

برطانوی سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی گئی ہے اور اسلحہ فروخت اور پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دفاعی تعلقات عالمی سطح پر انسانی حقوق اور امن و استحکام کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔


 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار