ایشیا اردو

گل بائی شیر شاہ پراچہ چوک پر دھماکے میں پی ٹی آئی ایم این اے عالمگیر خان کے والد سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
کراچی کے علاقے شیر شاہ میں زیرِ زمین گزرنے والے سیوریج کے بند نالے میں دھماکے میں نجی بینک کی عمارت تباہ ہوگئی جبکہ اطراف کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے،  ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ نالے میں گیس بھر جانے سے ہوا، دھماکے سے نجی بینک کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ دو منزلہ عمارت نالے پر تعمیر کی گئی تھی۔ عمارت میں بینک اور دیگر دفاتر بھی موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعد گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ پولیس اور رینجرز اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے کے نیچے لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ دھماکے کی جگہ سے ملبہ ہٹانے کیلئے مشینری طلب کرلی گئی۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکے کے وقت بینک کھلا ہوا تھا، بینک میں معمول کے مطابق کام ہو رہا تھا۔
شیر شاہ میں ہونے والے دھماکے کے بعد وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو کی ہدایت پر ٹراما سینٹر اور جناح اسپتال میں ایمرجنسی نافد کردی گئی۔
عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی ہر ممکن طبی امداد کی جائے گی، زخمیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے تمام و سائل استعمال کیے جائیں۔ شیر شاہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے اور کراچی میں فکس اٹ کے متحرک رہنما عالمگیر خان کے والد جاں بحق ہو گئے، ان کے دھماکے میں جاں بحق ہونے کی تصدیق رکن صوبائی اسمبلی ارسلان تاج نے کی۔
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے جاں بحق افراد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں اور کوتاہی برتنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اُدھربم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، دھماکہ سیوریج لائن کے باعث ہوا، دھماکے سے نجی بینک اور اطراف میں موجود دفاتروں کو نقصان پہنچا، دھماکا گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شیر شاہ کے قریب دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو تفیصلی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری میں پولیس کا افسر بھی شامل کیا جائے تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہوسکے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار