پاکستان نے سکھ مذہبی تہوار کے موقع پر کرتارپور راہداری کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اقدام کیا ہے۔ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد مئی 2025 سے کرتارپور راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے، جبکہ سکھ برادری مسلسل پاکستان میں مذہبی رسومات کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے راہداری کھولنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اسی سلسلے میں 27 اکتوبر 2026 کو بھارتی پنجاب اسمبلی میں بھی کرتارپور راہداری کھولنے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان نے مذہبی خیرسگالی کے تحت 17 ستمبر 2026 کو راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ بابا گرونانک کے 557ویں جنم دن کے موقع پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان نے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ راہداری کھولنے سے انہیں اپنے مذہبی مقامات کی زیارت اور رسومات کی ادائیگی کا موقع ملے گا۔ یاتریوں کے مطابق پاکستانی حکومت اور عوام کا محبت، خلوص اور دوستانہ رویہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار