لاہور کے چلڈرن اسپتال میں زائد المعیاد ادویات کے استعمال اور انتظامی غفلت کی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے او پی ڈی اور وارڈز میں زائد المعیاد ادویات اور انجکشنز پائے گئے، جو بچوں کی جان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، جبکہ ان ادویات کو نہ تلف کیا گیا اور نہ ہی محفوظ طریقے سے اسٹور کیا گیا۔

مانیٹرنگ یونٹ نے وارڈز اور فارمیسز کے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے، اور رپورٹ میں بچوں کے علاج، ادویات کی فراہمی، صفائی، عملے کی حاضری، اور سیکیورٹی نظام کی خامیوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چلڈرن اسپتال کی ایم آر آئی مشین خراب ہے جس کی وجہ سے ضروری ٹیسٹ ممکن نہیں، بچوں کے آپریشنز میں غیرمعمولی تاخیر ہو رہی ہے، اور کئی ہفتوں سے بچے وارڈز میں داخل ہونے کے باوجود ڈاکٹرز نے معائنہ یا سرجری شیڈول نہیں کیا۔

اس کے علاوہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ملازمین ڈیوٹی سے غیرحاضر پائے گئے، جبکہ مریض ادویات نجی میڈیکل اسٹورز سے خریدنے پر مجبور ہیں اور بچوں کے لیبارٹری ٹیسٹ بھی نجی لیبارٹری سے کروائے جا رہے ہیں۔ اسپتال میں گندے بستر، کھلے کوڑے دان، استعمال شدہ سرنجز، گندے واش رومز، اور زائد المعیاد ادویات کے ساتھ آگ بجھانے کے آلات بھی پائے گئے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ نے فوری اصلاحات اور انتظامی بہتری کے اقدامات کی ہدایت دی ہے تاکہ بچوں کے تحفظ اور صحت کی سہولت یقینی بنائی جا سکے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار