بلدیاتی نظام اور نئے صوبے—اختیارات عوام کی دہلیز تک کب پہنچیں گے؟
تحریر: محمد طارق خان
پاکستان میں جمہوریت کا ذکر ہو تو قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں فوراً ذہن میں آتی ہیں، لیکن عام شہری کا روزانہ واسطہ ان بڑے ایوانوں سے نہیں بلکہ اپنے محلے، یونین کونسل، تحصیل اور شہر کے انتظام سے پڑتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک، بند سیوریج، گندگی کے ڈھیر، آلودہ پانی، خراب اسٹریٹ لائٹس، تجاوزات، پارک، قبرستان، پیدائش و وفات کا اندراج اور مقامی تعمیراتی منصوبے ایسے معاملات ہیں جن کا مؤثر حل ایک بااختیار بلدیاتی نظام ہی فراہم کرسکتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش تو کی جاتی ہے، مگر اس کی بنیاد یعنی بلدیاتی اداروں کو مستقل، مستحکم اور بااختیار نہیں بنایا جاتا۔
آئین کا واضح حکم
آئینِ پاکستان کی شق 140-اے صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔ بلدیاتی انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔
آئینی حکم واضح ہونے کے باوجود بلدیاتی انتخابات اکثر تاخیر کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ کبھی نئی قانون سازی، کبھی حلقہ بندیوں، کبھی مردم شماری، کبھی عدالتی کارروائی اور کبھی انتظامی تیاریوں کو وجہ بنایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑے شہروں اور دیہی علاقوں کا انتظام طویل عرصے تک منتخب نمائندوں کے بجائے سرکاری افسروں کے ذریعے چلتا رہتا ہے۔
قومی اور صوبائی انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتیں سرگرم ہوتی ہیں، لیکن بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں وہی جوش دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ اختیارات اور ترقیاتی فنڈز پر کنٹرول ہے۔ اگر بااختیار میئر، چیئرمین اور کونسلر موجود ہوں تو ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی گلی، نالی، سڑک اور مقامی ترقیاتی منصوبوں میں مداخلت محدود ہو جائے گی۔
اختیارات کے بغیر نمائندگی بے معنی
صرف بلدیاتی انتخابات کرانا کافی نہیں۔ اگر نمائندے منتخب ہوجائیں لیکن بجٹ، عملہ، منصوبہ بندی اور فیصلوں پر عمل درآمد کا اختیار ان کے پاس نہ ہو تو ایسا نظام محض نمائشی ہوگا۔
ایک مؤثر بلدیاتی حکومت کے لیے تین بنیادی اختیارات ضروری ہیں۔
اول، سیاسی اختیار تاکہ منتخب کونسل مقامی ترجیحات طے کرسکے۔
دوم، انتظامی اختیار تاکہ متعلقہ سرکاری عملہ منتخب مقامی حکومت کے سامنے جواب دہ ہو۔
سوم، مالی اختیار تاکہ بلدیاتی ادارے اپنا بجٹ بنائیں، جائز مقامی محصولات وصول کریں اور ترقیاتی رقم عوامی ضروریات کے مطابق خرچ کرسکیں۔
پاکستان میں اکثر اختیار ایک محکمے، بجٹ دوسرے اور عملہ کسی تیسرے ادارے کے ماتحت ہوتا ہے۔ اس بکھرے ہوئے نظام میں ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جاتا ہے اور ہر ادارہ ناکامی کا بوجھ دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔
عوام کیا کہتے ہیں؟
ملتان سمیت ملک کے تقریباً ہر شہر کے شہریوں کی شکایات ایک جیسی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں معمولی مسئلے کے حل کے لیے بھی مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ٹوٹی سڑک کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے، بند نالی کون کھلوائے گا، کچرا کس نے اٹھانا ہے اور خراب اسٹریٹ لائٹ کے لیے درخواست کہاں دینا ہوگی۔
دکاندار صفائی، پارکنگ اور تجاوزات کے ناقص انتظام کی شکایت کرتے ہیں۔ خواتین محفوظ گلیوں، روشنی، صاف پانی اور قریب تر طبی سہولتوں کا مطالبہ کرتی ہیں۔ نوجوان کھیل کے میدان، کتب خانے، فنی تربیت اور مقامی روزگار چاہتے ہیں۔ دیہی آبادی رابطہ سڑکوں، نکاسیٔ آب، بنیادی مراکزِ صحت، مویشی منڈیوں اور صاف پانی کو اپنی بنیادی ضرورت قرار دیتی ہے۔
لوگوں کا جائز سوال ہے کہ اگر ان کے ووٹ سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں منتخب ہوسکتی ہیں تو ان کے اپنے شہر اور محلے کا نظام منتخب نمائندوں کے بجائے مقرر کیے گئے افسروں کے ذریعے کیوں چلایا جاتا ہے؟
افسر شاہی اور منتخب قیادت
سرکاری افسر ریاستی انتظام کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی تربیت، تجربہ اور قانونی ذمہ داریاں اہم ہیں، لیکن کوئی افسر عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب نہیں ہوتا۔ اس کا کسی بھی وقت تبادلہ ہوسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ وہ علاقے کی سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی ضروریات سے مکمل واقف ہو۔
اس کے مقابلے میں منتخب کونسلر یا چیئرمین اسی آبادی میں رہتا ہے۔ شہری اس تک براہِ راست پہنچ سکتے ہیں اور اگلے انتخابات میں اس سے کارکردگی کا حساب بھی لے سکتے ہیں۔ بہتر نظام یہ ہوگا کہ مقامی پالیسی اور ترجیحات منتخب قیادت طے کرے، جبکہ سرکاری افسر قانون اور فنی اصولوں کے مطابق ان فیصلوں پر عمل درآمد کرائیں۔
چھوٹے صوبے اور متوازن اختیارات
بلدیاتی نظام کے ساتھ پاکستان میں نئے اور نسبتاً چھوٹے صوبوں کی تشکیل پر بھی سنجیدہ قومی مکالمہ ضروری ہے۔ پنجاب 2023 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ آبادی کا صوبہ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے انتظام، ترقیاتی ضروریات اور علاقائی فرق کو صرف لاہور میں قائم ایک صوبائی مرکز سے مکمل طور پر سمجھنا اور سنبھالنا آسان نہیں۔
پاکستان ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنوں کی مجموعی آبادی چار کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ آبادی دنیا کے متعدد ممالک سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے جنوبی پنجاب یا ملتان کو مرکز بنا کر الگ صوبہ قائم کرنے کا مطالبہ محض جذباتی یا لسانی نعرہ نہیں، بلکہ اسے انتظامی سہولت، مقامی نمائندگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔
اگر ملتان کو جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کا دارالحکومت بنایا جائے تو بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ، راجن پور، وہاڑی، خانیوال، لودھراں اور رحیم یار خان جیسے علاقوں کے لوگوں کو صوبائی اداروں تک نسبتاً آسان رسائی مل سکتی ہے۔ محکمہ صحت، تعلیم، زراعت، آب پاشی، منصوبہ بندی، پولیس اور مالی امور سے متعلق فیصلے علاقے کے قریب کیے جاسکیں گے۔
اس سے لاہور پر انتظامی دباؤ کم ہونے، جنوبی پنجاب کی ضروریات کے مطابق بجٹ بنانے، مقامی نوجوانوں کو سرکاری اور انتظامی مواقع ملنے اور علاقائی منصوبوں کی بہتر نگرانی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم صرف نیا صوبہ بنانا تمام مسائل کا خودکار حل نہیں۔ اگر نئے صوبے میں بھی تمام اختیارات دارالحکومت تک محدود رہے اور یونین کونسل، تحصیل اور ضلع بے اختیار ہوں تو محرومی صرف ایک مرکز سے دوسرے مرکز میں منتقل ہو جائے گی۔ اس لیے نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی حکومتیں قائم کرنا بھی لازمی ہوگا۔
آئینی طریقۂ کار
نئے صوبے کا قیام محض حکومتی اعلان سے ممکن نہیں۔ آئین کی شق 239 کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ ایسی ترمیم کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہونا ہوتا ہے۔ جس صوبے کی حدود تبدیل کی جارہی ہوں، اس صوبے کی اسمبلی سے بھی کم از کم دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
اس لیے جنوبی پنجاب یا ملتان صوبے کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں، پارلیمان، پنجاب اسمبلی اور متعلقہ علاقوں کے عوام کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ نئے صوبے کی حدود، دارالحکومت، اثاثوں، سرکاری ملازمین، پانی، قرضوں، محصولات، اسمبلی نشستوں اور مالی حصے کا فیصلہ واضح آئینی اور قانونی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔
ملتان کی بلدیاتی تاریخ اور نمایاں شخصیات
ملتان کی بلدیاتی تاریخ میں کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے مقامی حکومت سے اپنا سیاسی اور عوامی سفر شروع کیا یا شہری انتظام کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سید یوسف رضا گیلانی 1983 سے 1985 تک ملتان کی مقامی قیادت سے وابستہ رہے۔ ان کے سیاسی سفر کی بنیاد بھی بلدیاتی سیاست سے پڑی اور بعد میں وہ وفاقی وزیر، قومی اسمبلی کے اسپیکر، وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کے منصب تک پہنچے۔ ان کا سفر اس حقیقت کی نمایاں مثال ہے کہ بلدیاتی ادارے قومی قیادت کی تربیت گاہ بن سکتے ہیں۔
ملک صلاح الدین ڈوگر 1987 سے 1991 تک ملتان کے میئر رہے۔ وہ بعد میں قومی سیاست میں بھی نمایاں ہوئے۔ ان کے دور کا ذکر ملتان کی منتخب شہری قیادت کے تسلسل میں اہم مقام رکھتا ہے۔
شیخ طارق رشید نے 1998 سے 2001 تک ملتان کی بلدیاتی قیادت سنبھالی۔ بعد میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ ان کا سیاسی سفر بھی اس بات کی مثال ہے کہ مقامی حکومت سے وابستہ قیادت کس طرح قومی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے 2001 سے 2002 کے دوران ملتان کی ضلعی حکومت کی قیادت کی۔ بعد میں وہ وفاقی وزیر اور وزیر خارجہ رہے۔ اگرچہ ان کی بلدیاتی مدت مختصر تھی، لیکن ان کا نام بھی ملتان کے مقامی حکومتی نظام کی تاریخ کا حصہ ہے۔
پیر ریاض حسین قریشی نے 2002 سے 2005 تک سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ملتان کی قیادت کی۔ یہ وہ دور تھا جب ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے نئے نظام کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔
میاں فیصل مختار 2005 سے 2010 تک ملتان کے ضلع ناظم رہے۔ ان کے دور میں شہری اور ضلعی ترقیاتی منصوبے بلدیاتی حکومت کے ذریعے چلائے گئے، تاہم ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور سیاسی اختلافات پر اعتراضات بھی سامنے آئے۔ یہ تجربہ یاد دلاتا ہے کہ اختیار کے ساتھ شفافیت، مساوی تقسیم اور مؤثر احتساب بھی ضروری ہے۔
چوہدری نویدالحق آرائیں 2016 سے 2021 تک ملتان کے میئر رہے۔ ان کے دور میں صفائی، کوڑا اٹھانے، شہری سہولتوں اور میونسپل کارپوریشن کے اختیارات جیسے معاملات نمایاں رہے۔ محدود مالی و انتظامی اختیارات کی شکایت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ صرف میئر منتخب کردینا کافی نہیں؛ اسے کام کرنے کے لیے بجٹ، عملہ اور قانونی اختیار بھی دینا ہوگا۔
ملتان کی اس تاریخ میں مخدوم سید غلام مصطفیٰ شاہ گیلانی اور مخدوم سید ولایت حسین شاہ جیسے نام بھی ملتے ہیں، جنہوں نے ماضی میں میونسپل اور ضلعی سطح کی قیادت کی۔ مخدوم سید رجن بخش گیلانی کو ملتان کے ابتدائی مسلمان میئروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان شخصیات کا ذکر بتاتا ہے کہ ملتان میں بلدیاتی قیادت کی روایت نئی نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔
ان تمام شخصیات کی سیاسی وابستگیاں اور کارکردگی پر مختلف آرا ہوسکتی ہیں، لیکن ان کے بلدیاتی ادوار سے ایک مشترک سبق ملتا ہے: جب مقامی حکومت موجود ہوتی ہے تو شہریوں کو کم از کم ایک منتخب قیادت دکھائی دیتی ہے جس سے سوال کیا جاسکتا ہے۔ جب پورا نظام افسروں کے سپرد ہو تو عوام کے ووٹ اور شہری انتظام کے درمیان تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔
ملتان کو کس نظام کی ضرورت ہے؟
ملتان ایک تاریخی مگر تیزی سے پھیلتا ہوا شہر ہے۔ نئی آبادیاں وجود میں آرہی ہیں، ٹریفک بڑھ رہی ہے، زرعی زمین رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہو رہی ہے اور پانی، سیوریج، صفائی اور نکاسی کے مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ پرانا شہر، مضافاتی بستیاں اور نئی رہائشی آبادیاں ایک جیسی ضروریات نہیں رکھتیں۔
ملتان کے لیے ایک بااختیار میٹروپولیٹن حکومت درکار ہے جس کے تحت پانی، نکاسی، صفائی، ٹریفک منصوبہ بندی، پارکنگ، تجاوزات، پارک، شہری درخت، تاریخی عمارتیں اور زمین کے استعمال سے متعلق ذمہ داریاں واضح ہوں۔ ہر یونین کونسل میں عوامی شکایات کا مرکز قائم کیا جائے اور شہری اپنی درخواست کے اندراج سے مسئلے کے حل تک تمام کارروائی دیکھ سکیں۔
بڑے شہر کے میئر کا براہِ راست انتخاب بھی زیرِ غور آنا چاہیے۔ جب پورا شہر میئر کو ووٹ دے گا تو اسے واضح عوامی اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک مضبوط منتخب کونسل، مالی نگرانی، آزاد جانچ اور عوامی احتساب کا نظام بھی ہونا چاہیے۔
شفافیت اور مالی خودمختاری
بلدیاتی اداروں کو اختیار دیتے وقت بدعنوانی کے خدشات نظرانداز نہیں کیے جاسکتے، لیکن اس کا حل اختیارات روکنا نہیں بلکہ شفاف نظام قائم کرنا ہے۔
ہر بلدیاتی ادارے کا بجٹ، آمدن، اخراجات، ٹھیکے، منصوبوں کی لاگت اور تکمیل کی مدت عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔ ترقیاتی منصوبے کے مقام پر اس کی لاگت، ٹھیکے دار، آغاز اور تکمیل کی تاریخ درج کی جائے۔ کونسل کے اجلاس عوام اور ذرائع ابلاغ کے لیے کھلے ہوں اور میئر یا چیئرمین ہر چھ ماہ بعد کارکردگی رپورٹ پیش کرے۔
صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کو آبادی، رقبے، پسماندگی اور بنیادی ضرورت کے مطابق حصہ دیا جائے۔ اسی طرح نئے صوبے قائم ہوں تو قومی مالیاتی وسائل کی تقسیم بھی شفاف اور متفقہ اصولوں کے تحت ہو۔
میری رائے
پاکستان میں بہتر حکمرانی کے لیے صرف ایک اصلاح کافی نہیں۔ ملک کو بیک وقت انتظامی طور پر مناسب حجم کے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی اداروں کی ضرورت ہے۔
جنوبی پنجاب یا ملتان صوبہ قائم ہونے سے انتظامی مرکز عوام کے قریب آسکتا ہے، علاقائی نمائندگی میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ کی بہتر نگرانی ممکن ہوسکتی ہے۔ مگر صوبہ بننے کے بعد اختیارات ملتان میں جمع کردینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ملتان سے آگے اختیار ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور محلے تک منتقل ہونا چاہیے۔
ارکانِ قومی اسمبلی کو قومی قانون سازی، خارجہ پالیسی اور وفاقی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ صوبائی ارکان کو صوبائی قانون سازی، صحت، تعلیم، زراعت اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرنی چاہیے، جبکہ گلی، نالی، پانی، صفائی، پارک اور مقامی سڑکیں منتخب بلدیاتی نمائندوں کے دائرۂ اختیار میں ہونی چاہییں۔
نئے صوبوں کی تشکیل کسی علاقے کو کمزور کرنے کے بجائے انتظامی سہولت، متوازن ترقی اور عوامی شرکت کا ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ فیصلہ سیاسی مصلحت کے بجائے آبادی، فاصلے، معیشت، ثقافتی شناخت، انتظامی صلاحیت اور عوامی رضامندی کی بنیاد پر کیا جائے۔
جمہوریت صرف پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کا نام نہیں۔ حقیقی جمہوریت اس وقت وجود میں آتی ہے جب اختیار وفاق سے صوبے، صوبے سے ضلع، ضلع سے یونین کونسل اور یونین کونسل سے شہری کی دہلیز تک پہنچے۔ پاکستان کو نمائشی نہیں بلکہ منتخب، مستقل، بااختیار، مالی طور پر مستحکم اور جواب دہ بلدیاتی نظام درکار ہے۔



Leave A Comment